تھائی لینڈ کے غار میں پھنسے بچوں کو بچانے کیلئے محدود وقت

تھائی لینڈ کے شمالی صوبہ چیانگ رائی کے غار میں گزشتہ دو ہفتے سے پھنسے ہوئے 12 بچوں اور ان کے کوچ کو نکالنے کے لئے ریسکیو ٹیم کے پاس تیز بارش آنے سے پہلے ’محدود وقت‘ بچا ہے۔ ریسکیو آپریشن کے سربراہ نے آج یہ اطلاع دی۔ریسکیو آپریشن کے سربراہ اور چیانگ رائی کے سابق گورنر ’نارونگس اوساتانایورن ‘نے آدھی رات کو میڈیا سیخطاب کرتے ہوئے کہا، “سب سے اہم نقطہ یہ ہے بارش نہ جانے کب دوبارہ شروع ہو جائے. لہذا ہمارے پاس محدود وقت ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ وہ خطرہ کو کم کرنا چاہتے ہیں. غار کے اندر آکسیجن کی سطح میں کمی بھی ‘بڑی تشویش’ کی بات ہے۔جمعہ کو ریسکیو آپریشن کے دوران تھائی لینڈ کے ایک غوطہ خور کی موت کے بعد مہم کی ٹیم کے سربراہ نے یہ انتباہ جاری کیا ہے۔بچوں نے اپنے والدین کو لکھا ہے کہ ‘آپ فکر نہ کریں۔ہم سب بخیریت ہیں۔ان کے خطوط میں کھانے کی درخواست کی گئی ہے، جب کہ ایک بچے نے فرائیڈ چکن کی فرمائش بھی کی ہے۔ایک خط میں لکھا ہے: ‘استاد ہمیں زیادہ ہوم ورک نہ دیں!’ جبکہ ٹیم کے 25 سالہ کوچ نے ایک علیحدہ خط میں وہاں پھنسے بچوں کے والدین سے ‘معافی’ مانگی ہے۔یاد رہے کہ ایک فٹبال ٹیم کے 12 بچے اور ان کے کوچ سیر کے لیے 23 جون کو تھائی لینڈ کے شمالی صوبے کے معروف غاروں میں گئے تھے جہاں وہ اچانک سیلاب کے سبب پھنس کر رہ گئے۔کوچ اکّاپول چنٹاوونگ نے والدین کو یقین دہانی کراتے ہوئے لکھا: ‘تمام بچوں کے پیارے والدین، اب تمام بچے اچھی حالت میں ہیں اور امدادی ٹیم ہمارا اچھا خیال رکھ رہی ہے۔’میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ ان کا بہترین خیال رکھوں گا اور آپ سب کی نیک خواہشات کا شکریہ۔اس کے بعد سے تھائی لینڈ اور بین الاقوامی غوطہ خوروں کی ٹیم نے انھیں آکسیجن اور خوراک فراہم کی ہے جبکہ انھیں طبی امداد بھی مہیا کی گئی ہے۔ تاہم جس جگہ وہ پھنسے ہوئے ہیں وہاں آکسیجن کی سطح کم ہو کر 15 فیصد رہ گئی ہے جبکہ عام حالت میں اس کی مقدار 21 فیصد ہوتی ہے۔دریں اثنا تھائی حکام نے وہاں کامیابی کے ساتھ ہوا کی ایک لائن بحال کر دی ہے۔غار میں موجود خطرات اس وقت ابھر کر سامنے آئے جب تھائی لینڈ کی بحریہ کے ایک سابق غوطہ خور جمعے کو بچوں کو آکسیجن سلینڈر پہنچانے کے بعد ہلاک ہو گئے۔دوسری جانب غار سے باہر فوجی اور عام شہریوں کی جانب سے دن رات بچوں کو وہاں سے بحفاظت نکالنے کی تدابیر جاری ہیں۔ دریں اثنا محکمہ موسمیات نے اتوار کو شدید بارش کی پیش قیاسی کی ہے جس سے غار میں سیلاب کا مزید خطرہ بڑھ گیا ہے۔
حکام نے پہلے طے کیا تھا کہ بچوں کو موسم برسات کے درمیان وہیں رہنے دیا جائے۔ ایسی صورت میں ان کا وہاں قیام تقریباً چار ماہ رہتا۔تاہم آکسیجن کی سطح میں مسلسل کمی کے ساتھ ان کو بچانے کے دوسرے منصوبوں پر غور کیا جا رہا ہے۔کل چیانگ رائی علاقہ کے گورنر نے بتایا کہ بچے چل تو سکتے ہیں لیکن ان میں تیر کر محفوظ جگہ تک پہنچنے کی قوت نہیں ہے۔نارونگسک اوسوتھاناکورن نے کہا کہ زیادہ تر بچوں کی حالت ‘معمول پر پہنچ گئی ہے’ اور غوطہ خور انھیں مسلسل غوطہ خوری اور سانس لینے کی تکنیک سکھا رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں