سری نگر کی جامع مسجد کے دروازے دوسرے دن بھی بند

 سربراہ دخترانِ ملت آسیہ اندرابی اور ان کی دو ساتھیوں کو مخالف قوم سرگرمیوں کے الزام کے سلسلہ میں نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے نئی دہلی کو منتقل کیے جانے کے خلاف علیحدگی پسندوں کی جانب سے عام ہڑتال کے اعلان کے بعد کسی احتجاج سے گریز کرنے احتیاطی اقدام کے طور پر آج دوسرے دن بھی تاریخی جامع مسجد کو بند رکھا گیا۔ صدرنشین اعتدال پسند حریت کانفرنس میر واعظ مولوی عمر فاروق جنہیں کل صبح سے نظر بند رکھا گیا ، کے مضبوط گڑھ جامع مسجد میں جمعہ کی نماز ادا نہیں کی جاسکی ۔ انہیں جمعہ کے دن خطبہ دینے سے باز رکھنے علی الصبح سے نظر بند کردیا گیا تھا ۔ جامع مارکٹ اور اطراف کے علاقوں میں عوام کے داخلہ کو روکنے جامع مسجد کی تمام گیٹیں بند کردی گئی تھیں اور سیکورٹی فورسس اور ریاستی پولیس بڑی تعداد میں علاقہ میں تعینات کی گئی تھی۔ مقامی افراد نے الزام عائد کیا کہ تحدیدات کے سبب کل سے جامع مسجد میں کوئی نماز ادا نہیں کی گئی ۔ جامع مسجد جانے والی تمام سڑکوں کے بشمول راجوری کدل ، لنگر اسٹاپ اور گوجوارہ علاقہ کی خاردار تاروں سے ناکہ بندی کردی گئی تھی ، تاہم مریضوں اور طبّی عملہ کی آمد و رفت کے لیے اجازت دی جارہی تھی ، جو ایس کے انسٹی ٹیوٹ آف میڈکل سائنسس جانا چاہتے تھے۔

جواب چھوڑیں