شام کے شہردرعہ میں جنگ بندی پراتفاق ۔بمباری بند، سرحدی گذرگاہ اسدی فوج کے حوالے

شامی اپوزیشن اور روسی فوج کے درمیان درعا گورنری میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد فریقین نے ایک دوسرے پر بمباری روک دی ہے اور اردن کی سرحد سے متصل ’نصیب‘ گذرگاہ کا کنٹرول بشارالاسد کی وفادار فوج کے حوالے کردیا گیا ہے۔شامی اپوزیشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے تحت اپوزیشن فورسز بھاری ہتھیار سرکاری فوج کے حوالے کریں گی جبکہ شامی فوج حالیہ دنوں میں قبضے میں لیے گئے علاقوں سے بہ تدریج واپس چلی جائے گی۔ معاہدے کے تحت اردن کی سرحد پر روسی ملٹری پولیس کے دستے تعینات کیے جائیں گے، جب کہ اردن اور شام کے درمیان سرحدی گذرگاہ کا کنٹرول اسد رجیم کے پاس رہے گا۔اسی سیاق میں بتایا گیا ہے کہ اسد رجیم کے ساتھ مصالحت نہ کرنے والے اپوزیشن گروپوں کو ملک کے شمالی علاقوں میں اپوزیشن کے زیرکنٹرول علاقوں میں بھیجا جائے گا۔ سرکاری فوج سے فرار کے بعد باغیوں میں شامل ہونے والے عہدیداروں کو 6 ماہ کی مہلت دی جائے گی۔کل سے جنگ بندی معاہدo کے اعلان کے بعد بھاری توپ خانے اور فضائی حملوں کا سلسلہ روک دیا گیا ہے تاہم بعض مقامات پر چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دی گئی ہیں۔واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے کے روز سے درعا میں شامی اپوزیشن اور روسی فوج کے درمیان درعا میں جنگ بندی کے لیے مذاکرات کے 4 دور ہوئے۔شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے ’سیرین آبزر ویٹری‘ کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ جْمعہ کو علی الصباح اسدی فوج کے جنگی طیاروں نے جنوبی شام میں نصیب، طفس، النعیمیہ اور دیگر مقامات پر بمباری کی تھی جب کہ درعا شہر میں شامی اپوزیشن کے ٹھکانوں پر 10 بیرل بم گرائے گئے تھے۔

جواب چھوڑیں