مارپیٹ ہلاکت کیس کے خاطیوں کی گلپوشی۔مرکزی وزیر جینت سنہا تنقیدوں کا نشانہ

رام گڑھ( جھارکھنڈ) میں گوشت کے ایک تاجر علیم الدین انصاری کو مار مار کر ہلاک کئے جانے کے واقعہ میں ملوث 8خاطیوں کو تہنیت پیش کرنے کے‘ مرکزی منسٹر آف اسٹیٹ برائے شہری ہوا بازی جینت سنہا کے اقدام پر ایک تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ یہ خاطی جب ضمانت پر رہا ہوکر جیل سے باہر آئے تب جینت سنہا نے کل اُن کی گلپوشی کی اور میٹھائیاں پیش کیں۔ اپوزیشن پارٹیوں نے جینت سنہا کے اِس اقدام کو ’’ مذموم حرکت‘‘ قراردیتے ہوئے اُن پر تنقید کی ہے۔ جھارکھنڈ ہائیکورٹ نے حال ہی میں مذکورہ خاطیوں کو ضمانت پر رہا کیا تھا جس پر جینت سنہا نے خوشی کا اظہار کیا۔ یہاں یہ تذکرہ بیجانہ ہوگا کہ علیم الدین انصاری کو سالِ گذشتہ 29جون کو ایک ہجوم نے رام گڑھ پولیس اسٹیشن کے تحت کے علاقہ میں اِس شبہ پر مار مار ہلاک کردیا تھا کہ وہ ( انصاری) اپنی کار میں گائے کا گوشت لے جارہے تھے۔ جینت سنہا نے مذکورہ خاطیوں کو مشورہ دیاکہ وہ ’’ عدلیہ پر اعتماد رکھیں‘‘۔ عدالتیں انصاف کریں گی۔ 8خاطیوں نے جینت سنہا کا شکریہ ادا کیا کہ انہوںنے مذکورہ کیس میں وکیل کی فراہمی میں مدد کی جس نے ہائیکورٹ میں اِن خاطیوں کی درخواست ضمانت پیش کی۔ اسی دوران قائد اپوزیشن اور جے ایم ایم رکن اسمبلی ہیمنت سوری نے اپنے ٹوئیٹر پر کہاکہ جینت سنہا کا اقدام ’’ یقینا لائق مذمت ہے‘‘۔اسی دوران صدرکانگریس راہول گاندھی نے کسی مخصوص واقعہ کا تذکرہ کئے بغیر ٹوئیٹر پر کہا ہے کہ ’’ نفرت اور فرقہ پرستی کے خانوں میں عوام کو بانٹنے کی سیاست سے ہمارے سماجی تانے بانے کو ناقابل تلافی نقصان ہورہا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں مار مار کر ہلاک کئے جانے کے وحشیانہ واقعات پر ہماری قوم کو صدمہ ہواہے۔ یہ واقعات‘ نفرت اور فرقہ وارانہ سیاست کا راست نتیجہ ہیں‘‘۔ یہاں یہ تذکرہ بیجانہ ہوگا کہ ایک فاسٹ ٹریک کورٹ نے گذشتہ 21مارچ کو 11خاطیو ں کو سزائے عمر قید سنائی تھی۔جھارکھنڈ ہائیکورٹ نے 11کے منجملہ 8خاطیوں کو گذشتہ 29 جون کو ضمانت پر رہا کیا۔ 2خاطی ‘ ہنوز ہزاری باغ سنٹرل جیل میں ہیں جبکہ ایک کم عمر خاطی کو اصلاح گھر میں رکھا گیا ہے۔ ایک اور خاطی نے 4جولائی کو ضمانت پر رہائی حاصل کی۔ اسی دوران جھارکھنڈ میں ایک شخص کو مار مار کر ہلاک کردیئے جانے پر جن افراد کو خاطی قراردیا گیا ہے اُن کی گلپوشی کئے جانے پر بعض گوشوں سے تنقید کی گئی۔ اِس سلسلہ میں مرکزی وزیر جینت سنہا کو آج اپنے والد یشونت سنہا کی شدیدتنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ یشونت سنہا نے کہاکہ پہلے وہ ( جینت سنہا) ’’ نالائق باپ کا لائق بیٹا تھا اب معاملہ اُلٹا ہوگیا ہے ۔سابق بی جے پی لیڈر و سابق مرکزی وزیر جنہوںنے حال ہی میں پارٹی سے استعفیٰ دیا ہے ‘ کہاکہ وہ اپنے فرزند کی حرکتوں کو پسند نہیں کرتے۔ انہوںنے ٹوئیٹر پر کہاکہ ’’ میں اپنے فرزند کی حرکت کو منظور؍ پسند نہیں کرتا‘‘ لیکن میں جانتا ہوں کہ اِس سبب بھی مزید تنقیدوں کی نوبت آئیگی‘ غلط حرکت سے آپ کسی کا دل ہرگز نہیں جیت سکتے۔اسی دوران صدر کانگریس راہول گاندھی نے آج کہا کہ نفرت اور فرقہ وارانہ انتشار کی سیاست ملک کے سماجی تانے بانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچارہی ہے۔ انہوں نے بی جے پی کا نام لئے بغیر اس پر تنقید کرتے ہوئے ٹوئٹر پر کہا کہ پیٹ پیٹ کر ہلاک کرنے کے بربریت آمیز واقعات اسی قسم کی سیاست کا نتیجہ ہیں۔

جواب چھوڑیں