وائس چانسلر کی فوری برطرفی کا مطالبہ۔ منی پور یونیورسٹی کے طلبہ کی احتجاجی ریالیاں

منی پور یونیورسٹی کے طلبہ اور مختلف طلبہ تنظیموں کے ارکان نے آج راج بھون کے گیٹ اور چیف منسٹر کی قیامگاہ کے سامنے احتجاجی ریالی منعقد کرتے ہوئے مبینہ بدانتظامی اور فرائض کی مناسب انجام دہی میں ناکامی کے لیے وائس چانسلر منی پور یونیورسٹی پروفیسر ادھیہ پرساد پانڈے کی برطرفی کا مطالبہ کیا ۔ طلبہ نے وائس چانسلر کو ہٹانے اور منی پور یونیورسٹی کے بحران کو حل کرنے میں طویل تاخیر ختم کرنے میں گورنر اور چیف منسٹر کی نااہلی کے خلاف نعرے بلند کیے۔ پولیس نے طلبہ کو علاقہ سے نکالنے کی کوششوں میں بہت دیر تک جدوجہد کی اور آخر کار پولیس کی بھاری کمک وہاں پہنچنے کے بعد علاقہ کو احتجاجی طلبہ سے خالی کردیا گیا ۔ منی پور یونیورسٹی ٹیچرس اسوسی ایشن (ایم یو ٹی اے) ، منی پور یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین (ایم یو ایس یو) اور طلبہ کی دیگر تنظیموں نے الزام عائد کیا کہ وائس چانسلر کو انتظامیہ کا کوئی تجربہ نہیں ہے اور وہ صرف کنٹراکٹ کے کاموں میں دلچسپی رکھتے ہیں اور یونیورسٹی کے خرچ پر ریاست کے باہر دورہ کرتے رہتے ہیں ۔ گذشتہ ڈیڑھ ماہ سے طلبہ اور اساتذہ کی جاری ہڑتال کے سبب یونیورسٹی کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے ۔ طلبہ نے الزام عائد کیا کہ منی پور یونیورسٹی جو ایک مرکزی یونیورسٹی ہے ، پروفیسر پانڈے کے بحیثیت ِ وائس چانسلر 2016ء میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے یونیورسٹی کے معیار میں انحطاط آگیا ہے، کیوںکہ تدریسی سرگرمیاں رک گئی ہیں۔ وائس چانسلر ہر ماہ بمشکل 10 دن کیمپس میں رہتے ہیں اور بیشتر اوقات ریاست کے باہر دورہ کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پروفیسر پانڈے اپنے آبائی مقام اور دیگر مقامات کا سفر کرنے آٹھ کروڑ سے زیادہ رقم خرچ کیے ہیں ، جب کہ تدریسی سرگرمیوں کو بہتر بنانے انہوں نے کچھ نہیں کیا ۔ طلبہ نے مزید بتایا کہ ہر چیز کی سپلائی کے لیے لکھنؤ کی ایک کمپنی کو زیادہ شرحوں پر آرڈر دیا جاتا ہے ، جس کی وجہ سے یونیورسٹی کے کاموں میں تاخیر پیش آتی ہے ۔

جواب چھوڑیں