پسماندہ طبقات کو معاشی طور پر مستحکم بنانے کی ضرورت:چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ

تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے آج متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ پسماندہ بالخصوص انتہائی پسماندہ طبقات ( ایم بی سی ) کو معاشی طور پر مستحکم بنانے کیلئے اقدامات کریں ۔ اور اس سلسلہ میں ضلع واری اساس پر فہرست تیار کرتے ہوئے ان طبقات کو خود روزگار اسکیمات کے ذریعہ معاشی اور مالیاتی طور پر مستحکم بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے تاجرین اور آباواجداد کے پیشہ سے وابستہ افراد کو راست طور پر مالی امداد فراہم کریں اور انہیں بینک لنکیج کے بغیر صدفیصد سبسیڈی فراہم کریں۔ پرگتی بھون میں ہفتہ کے روز ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کے چندر شیکھر راؤ نے یہ بات کہی ۔ انہوںنے کہا کہ مالیاتی امداد کی ان افراد تک توسیع کی جانی چاہئے جو اپنے وراثت کے پیشوں سے وابستہ ہوں ۔یہ امداد ان کے اوزار کی خریداری کے لئے دی جائے ۔اس مقصد کے لئے استفادہ کنندگان کی نشاندہی موضع کی سطح پر کی جائے ۔ہر ضلع میں کمیٹیاں تشکیل دی جائیں اور کلکٹر کو اس کا صدرنشین بنایا جائے ۔بی سی افسر کو اس کا کنوینر اور جوائنٹ کلکٹر و پی ڈی ڈی آر ڈی اے کو اس کا رکن مقرر کیا جائے ۔استفادہ کنندگان کی فہرست کی تیاری کے بعد ان کو مالی امداد فراہم کی جائے ۔اس کوبینکس سے ڈی لنک کیاجائے اور راست طورپر مالی مدد استفادہ کنندگان کو فراہم کی جائے ۔بی سی ویلفیر ڈپارٹمنٹ اورایم بی سی کارپوریشن کو الاٹ کردہ فنڈس سے اس مقصد کے لئے استفادہ کیاجائے ۔حکومت نے ریاست میں پسماندہ طبقات کی بہبود کے لئے کئی پروگراموں کا آغاز کیا ہے اور یہ عمل آوری کے مرحلہ میں ہیں ۔اقامتی اسکولس کا بڑے پیمانے پرآغاز کیا گیا ہے ۔آئندہ سال سے موجودہ اسکولس کے علاوہ مزید 119اسکولس قائم کئے جائیں گے ۔یہ اسکولس پسماندہ طبقات کے طلبہ کے لئے ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ ان طلبہ کو معیاری تعلیم کی فراہمی کیلئے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ تاڑی کی دکانات کو دوبارہ کھولنے اور ٹیکس برخواست کرنے سے تاڑی نکالنے والے افراد کو فائدہ پہنچا ہے ۔حکومت نے تاڑی تاسندوں کے مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے ان کی بہبود کے لئے مزید فیصلے کئے ہیں۔یادو طبقہ میں پہلے ہی 65لاکھ بکریوں کی تقسیم عمل میں لائی گئی ہے جس سے ان کو مالی طورپر مستحکم بنایاجارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پھلوں اور سبزی ، گل فروشوں کی طرح دیگر چھوٹے تاجروں کی نشاندہی کی جانی چاہئے اور انہیں مالی امداد فراہم کیا جانا چاہئے ۔ اس اجلاس میں صدرنشین قانون ساز کونسل سوامی گوڑ، اسپیکر اسمبلی مدھوسدھن چاری، وزیر فینانس سی راجندر، دیگر وزرا، ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی اور دیگر شریک تھے ۔

جواب چھوڑیں