الیکشن میں 30-35 فیصد اقلیتیں‘ بی جے پی کو ووٹ دیں گی:مختارعباس نقوی

مرکزی وزیر مختارعباس نقوی نے آج کہا کہ اپوزیشن کی خوف طاری کرنے کی مہم نے حکومت کی تفریق کے بغیر ترقی کی پہل کو بربادکردیا۔ انہوں نے امید ظاہرکی کہ 30-35 فیصد اقلیتیں بشمول مسلمان 2019 میں بی جے پی کوووٹ دیں گی۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی اے حکومت نے اقلیتوں کی ترقی کے لئے کام کیا ہے۔ اقلیتیں مانتی ہیں کہ وزیراعظم نریندرمودی ترقی کے حامی ہیں۔ پی ٹی آئی کو انٹرویو میں وزیراقلیتی امور نے کہا کہ 2014ء میں جب بی جے پی برسرِ اقتدار آئی تو اپوزیشن جماعتوں نے بھروسہ گھٹانے اور خوف میں مبتلا کرنے کی کوشش کی۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ گذشتہ 70برس میں پھیلایاگیا زہرپوری طرح صاف ہوا لیکن مثبت چیز یہ ہے کہ اقلیتیں‘ بی جے پی کو ہندوستانی سیاست کی حقیقت مان رہی ہیں اور خامیوں وخوبیوں کی بنیاد پراس کی تائید کررہی ہیں۔ 2014 میں اقلیتی فرقوں کے 18-20 فیصد لوگوں نے مودی کو ووٹ دیا تھا۔ نقوی نے کہا کہ 2019 کے الیکشن میں انہیں توقع ہے کہ اقلیتی فرقوں کے 30-35 فیصد لوگ بشمول مسلمان بی جے پی کو ووٹ دیں گے تاکہ وہ ملک کی ترقی کا سفرجاری رکھ سکے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیاکہ مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے کوئی بڑا فرقہ وارانہ فساد نہیںہوا۔ انہوں نے سوال کیاکہ بتائیے مودی حکومت میں کشمیر کے باہر کوئی بڑا دہشت گرد حملہ یا کوئی فرقہ وارانہ فساد ہوا ہے؟۔ رکن راجیہ سبھا نے پچھلی یوپی اے حکومت کے دور کے سلسلہ وار حملوں کی فہرست گِنوائی۔ نقوی نے یہ بھی دعویٰ کیاکہ یوپی اے کے 10 سالہ دور میں لگ بھگ 530 بے قصور مسلمان، دہشت گرد قراردے کر جیل بھیج دئیے گئے جبکہ ہماری حکومت میں ایک بھی بے قصور مسلمان دہشت گرد قرارپاکر جیل نہیں گیا۔ پچھلی حکومت نے جو’ سیکولر‘ تھی کئی مسلمانوں کو غلط طور پر جیلوں میں ڈالا۔ ان میں 90 فیصد کو عدالتوں نے یہ کہہ کر رہا کیاکہ ان کے خلاف الزامات غلط ہیں۔ یہ پوچھنے پر کہ آیا حکومت نے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے لئے اتنا کچھ کیا ہے جسے کافی کہا جاسکے نقوی نے کہا کہ بی جے پی کے برسرِ اقتدار آنے کے وقت کہاگیاتھا کہ ہندوستان کے تعلقات عرب ممالک سے خراب ہوجائیں گے اور مسلمان محفوظ نہیں رہیں گے جبکہ ایسا نہیں ہوا۔ یہ پوچھنے پر کہ ریاستی اور پارلیمانی الیکشن میں بی جے پی مسلمانوں کو ٹکٹ کم دیتی ہے ‘مرکزی وزیر نے جواب دیاکہ میں نہیں مانتا کہ سیاسی نمائندگی کو ٹکٹوں کی تقسیم سے جوڑکردیکھناچاہئیے۔ اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی نمائندگی گذشتہ 40-45 برس میں گھٹتی رہی ہے۔ اس کے لئے بی جے پی ذمہ دار نہیں کیونکہ وہ اتنے سال برسرِ اقتدار نہیں تھی۔

جواب چھوڑیں