ایس پی اور ٹی آرایس بہ یک وقت انتخابات کی حامی

سماج وادی پارٹی(ایس پی) اور تلنگانہ راشٹرسمیتی (ٹی آرایس) نے اتوار کے دن اعلان کیا کہ وہ لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے بہ یک وقت انتخابات کی حامی ہیں۔ سماج وادی پارٹی کے رکن راجیہ سبھا رام گوپال یادو نے ون نیشن، ون الیکشن پہلی ، تائید کی اور کہا کہ 2019ء سے اس کی شروعات ہوجانی چاہئیے۔ انہوں نے لاء کمیشن کی طلب کردہ میٹنگ میںکہا کہ سماج وادی پارٹی ، لوک سبھا اور اسمبلیوں کے بہ یک وقت انتخابات کی حامی ہے۔ بہ یک وقت الیکشن کا عمل 2019ء سے شروع ہوجاناچاہئیے۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں کسی ایک جماعت کو بھرپور اکثریت نہ ملنے کی صورت میں چند پارٹیاں مخلوط حکومت تشکیل دینے صدرجمہوریہ یا گورنر سے رجوع ہوں تو صدرجمہوریہ ؍گورنر کو اس مخلوط اتحاد کی تمام جماعتوں سے حلف لے لیناچاہئیے کہ وہ مل جل کر کام کریں گی۔سماج وادی پارٹی کی جانب سے زیرگشت لائے گئے مکتوب میںکہاگیاکہ مخلوط حکومت کی کوئی پارٹی خود سے علٰحدہ ہوجائے تو قانون اسپیکر کو اختیاردے کہ وہ اُس پارٹی اور اس کے تمام ارکان کی وابستگی ختم کردیں۔ یہ دیکھاگیاکہ وفاداری بدلنے کے کئی ماہ بعد بھی اسپیکر کی جانب سے کوئی کاروائی نہیں ہوتی۔ اسی لئے قانون میں یہ گنجائش ہونی چاہئیے کہ اسپیکر وفاداری بدلنے والے کے تعلق سے فیصلہ اندرون ایک ماہ کردے۔ الیکشن کے اندرون تین سال کوئی حکومت زوال سے دوچارہوجائے اور نئی حکومت بننے کا امکان نہ رہے تو پھر اُس ریاست میں الیکشن دو سال کیلئے کرایا جائے تاکہ اس کے بعد انتخابات وقت پر منعقد ہوں۔ ٹی آرایس نے بیک وقت انتخابات کی پہل کی تائید کی اور کہا کہ اس سے وقت بچے گا اور غیر ضروری اخراجات نہیں ہوں گے۔ ٹی آرایس کے بی ونود کمار نے کہا کہ ہمارے پارٹی صدر اور تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندرشیکھرراؤ نے کہا ہے کہ ہم لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے بیک وقت انتخابات کے پُرزور حامی ہیں تاکہ مرکز اور ریاستی حکومتیں پانچ سال کی میعاد کے لئے کام کرسکیں۔ ملک بھر میں الیکشن کی وجہ سے وقت ضائع نہ ہو۔ ونود کمار نے کہا کہ اس سے کافی پیسہ اور وقت بچے گا۔ غیر ضروری اخراجات نہیں ہوں گے۔ چیف منسٹرس اور وزیراعظم کسی خلل کے بغیر پانچ سال تک کام کرسکیں گے۔ اسی دوران ڈی ایم کے نے بیک وقت انتخابات کی مخالفت کی۔ اُس نے کہا کہ یہ غیر ضروری اور غیرعملی ہے۔ اُس نے خبردار کیاکہ بیک وقت الیکشن دستور کے بنیادی اُصولوں کے خلاف ہے۔ کارگذار صدر ڈی ایم کے ایم کے اسٹالن نے لاء کمیشن کو تحریری طور پر بتایاکہ لاء کمیشن کی موجودہ تجویز ٹھیک نہیں دکھائی دیتی کیونکہ اس سے وفاقی ڈھانچہ کی نفی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ میری پارٹی اس تجویز کے بالکل خلاف ہے۔ ڈی ایم کے کی رائے ہے کہ لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے بیک وقت انتخابات دستور کے بنیادی اُصولوں کے خلاف ہیں۔ یہ جمہوری کارکردگی کے مروجہ اُصولوں کے بھی خلاف ہیں۔ ڈی ایم کے نے اتوار کے دن لاء کمیشن کے طلب کردہ اجلاس میں شرکت کی۔ سینئر پارٹی قائد تروچی شیوا نے اجلاس میں شرکت کی اور اپنی پارٹی کا موقف تحریری طور پر بھی بیان کیا۔ انہوں نے بعدازاں اخباری نمائندوں کوبتایاکہ ہمارا استدلال ہے کہ دستور کی ہرلحاظ سے بالادستی ہونی چاہئیے۔ پارلیمنٹ کو دستور میں ترمیم کا اختیار ہے لیکن دستور کے بنیادی پہلوؤں کو ہاتھ نہیں لگایاجاسکتا۔ بیک وقت الیکشن کی مخالفت کرتے ہوئے انہوں نے حکومت کو نشانہ تنقید بنایا اور کہا کہ یہ کوشش عوام کے مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے ہورہی ہے۔

جواب چھوڑیں