تلنگانہ میں خانگی یونیورسٹیوں کا قیام، عنقریب اعلامیہ کی اجرائی:کڈیم سری ہری

تلنگانہ میں خانگی یونیورسٹیوں کے قیام کیلئے حکومت کی جانب سے عنقریب اعلامیہ جاری کئے جانے کا امکان ہے ۔ یہاں اس بات کاتذکرہ ضروری ہے کہ ملک کی نامور کمپنیوں کی جانب سے ریاست میں عالمی معیار کے حامل یونیورسٹیز قائم کرنے میں دلچسپی دکھائی جارہی ہے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر ووزیر تعلیم کڈیم سری ہری نے کہا کہ خانگی یونیورسٹیز کے قیام کیلئے رہنمایانہ خطوط تدوین کئے جارہے ہیں۔ اور بہت جلد ان رہنمایانہ خطوط کو جاری کردیا جائے گا ۔ ریاست میں عالمی معیار کی اعلیٰ تعلیم کی فراہمی کی غرض سے ریاست میں خانگی یونیورسٹیز کے قیام کیلئے راہ ہموار کرتے ہوئے گذشتہ مارچ کے بجٹ اجلاس کے دوران پرائیویٹ یونیورسٹیز بل بھی منظور کیا گیا تھا ۔ اس بل کی رو سے خانگی یونیورسٹیز کی جانب سے فراہم کئے جانے والے مختلف کورسس میں 25فیصد نشستوں کو تلنگانہ کے طلبائ( پیدائشی طور پر ) کیلئے مختص کیا جائے گا ۔ اس کے علاوہ یونیورسٹیز کو کورسس کے انتخاب اور طلبا ء کو داخلہ دینے کے معاملہ میں مکمل خود مختاری حاصل رہے گی تاہم یونیورسٹیز کو داخلوں کیلئے حکومت کی شرائط کا پابند رہنا ہوگا ۔ اس کے علاوہ یونیورسٹیز کے قیام کے اندرون5سال نیشنل اسسمنٹ اینڈ اکریڈیشن کونسل سے گریڈنگ حاصل کرنا ضروری ہوگا ۔ ریاست میں خانگی یونیورسٹی کے قیام کیلئے دلچسپی رکھنے والے ادارے کو مقصد اور نظریہ ، فیس اور کورس کی تفصیلات کے ساتھ ریاستی حکومت کو درخواست دینا ہوگا ۔ محکمہ اعلیٰ تعلیم کی جانب سے بلدی حدود میں یونیورسٹی کے قیام کیلئے 10ایکراراضی اور بلدی حدود کے باہر 20 ایکر اراضی اور30 کروڑ پر مشتمل کارپس فنڈ کا ہونا ناگزیر قرار دیا گیا ہے ۔ ملک کے بڑے کارپوریٹ ادارے ٹیک مہندرا ، ریلائنس، ٹا ٹا کنسلٹنسی سرویس، گلوبل یونیورسٹی سٹس( نیدر لینڈ) اور انفوسس کی جانب سے خانگی یونیورسٹی قائم کرنے دلچسپی ظاہر کی گئی ۔

جواب چھوڑیں