تمام اضلاع میں شرعی پنچایتیں کھولنے مسلم پرسنل لاء بورڈ کا منصوبہ

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) ملک کے تمام اضلاع میں دارالقضاۃ (شرعی عدالتیں یا پنچایت) کھولنے کا منصوبہ رکھتا ہے تاکہ ازروئے اسلامی قوانین مسائل کی یکسوئی ہو۔ اس تجویز پر 15جولائی کو نئی دہلی میں بورڈ کے اجلاس میں تبادلۂ خیال ہوگا۔ بورڈ کے سینئر رکن ظفریاب جیلانی نے پی ٹی آئی سے کہا کہ فی الحال اترپردیش میں ایسی 40 شرعی پنچایتیں موجود ہیں۔ ہم ملک کے تمام اضلاع میں شرعی پنچایتیں کھولنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ مقصد، عدالتوں کا رخ کرنے کے بجائے شریعت کی روشنی میں معاملات کی یکسوئی کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک شرعی پنچایت چلانے پر 50ہزار روپئے خرچ ہوتے ہیں۔ وسائل کیسے اکٹھا کئے جائیں اس پر بورڈ کے نئی دہلی اجلاس( 15جولائی) میں غورہوگا۔ وکیلوں، ججوں اور عام آدمی کو شرعی قوانین سے واقف کرانے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اپنی تفہیم شریعت کمیٹی کو فعال بنارہا ہے۔ جیلانی نے کہا کہ ہم تفہیم شریعت کمیٹی کو فعال بنارہے ہیں تاکہ وکیلوں، ججس اور عام آدمی کو شرعی قوانین کی جانکاری دی جائے۔ ہم بورڈ کے اجلاس میں اس پر بھی تبادلۂ خیال کریں گے۔ تفہیم شریعت کمیٹی ملک بھر میں کانفرنسوں اور ورکشاپس کا اہتمام کرتی رہی ہے۔ اسلامی ماہرین ‘شرعی قوانین کی تفصیلات بیان کرتے رہے ہیں اور شرکاء کے سوالات کے جوابات بھی دیتے آئے ہیں۔ اب یہ خیال ہے کہ کمیٹی کو پھر سے متحرک کیاجائے اور ایسے پروگرامس زیادہ منعقد ہوں۔ کمیٹی نے مختلف پروگرامس میں طلاقِ ثلاثہ اور وراثت کے علاوہ دیگر مسائل اٹھائے ۔ یہ پوچھنے پر کہ بورڈ کے 15جولائی والے اجلاس میں مزید کونسے مسائل زیربحث آئیں گے ‘ظفریاب جیلانی نے بتایاکہ بابری مسجد کیس پر تبادلہ خیال ہوگا اور مستقبل کا لائحہ عمل طئے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان فریق، سپریم کورٹ کے فیصلہ میں تاخیر نہیں چاہتا جیسا کہ میڈیا میں آیا ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا اجلاس بعض قائدین کے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے حق میں جاری بیانات کے پس منظر میں منعقد ہورہا ہے۔ رکن بورڈ جیلانی نے کہا کہ ایودھیا مسئلہ پربیانات آرہے ہیں۔ بعض کا کہنا ہے کہ فیصلہ فلاں مہینہ میں آجائے گا اور یہ فلاں فرقہ کے حق میں ہوگا۔ ایسی بیان بازی، سپریم کورٹ کا وقارگھٹانے کی کوشش ہے۔ اس کا نوٹ لیناچاہئیے۔ اس پر بھی بورڈ کے اجلاس میں تبادلۂ خیال ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ اسے سپریم کورٹ کا فیصلہ قبول ہوگا۔

جواب چھوڑیں