تھائی لینڈ میں غار میں پھنسے چار لڑکوں کو نکال لیا گیا

تھائی لینڈ میں سیلاب کی زد میں آنے والے غار میں پھنسے تیرہ میں سے چار لڑکوں کو امدادی کارکنوں نے کئی گھنٹے کی سخت جدوجہد کے بعد بہ حفاظت نکال لیا ہے۔تھائی لینڈ کے شمالی صوبے چیانگ رائی میں لڑکوں کی ایک فٹ بال کے بارہ کھلاڑی اور ان کا کوچ 23 جون سے اس چار کلومیٹر طویل زیر زمین غار میں پھنسے ہوئے ہیں۔انھیں نکالنے کے لیے تھائی حکام نے اتوار کی صبح کارروائی شروع کی تھی اور ماہر غوطہ خور غار کے اندر گئے تھے۔ان لڑکوں کی عمریں 11 سے 16 کے درمیان ہیں اور ان کے کوچ کی عمر 25 سال بتائی گئی ہے۔کئی گھنٹے کی کارروائی کے بعد امدادی کارکنوں نے ان میں سے چار لڑکوں کو پانی اور کیچڑ سے بھرے غار سے باہر نکال لیا ہے۔اس کے بعد دو ایمبولینس گاڑیاں تھام لوانگ نامی غار کی جگہ سے اسپتال کی جانب روانہ ہوتے ہوئے دیکھی گئی ہیں۔قبل ازیں تھائی محکمہ دفاع کے ایک عہدے دار نے کہا تھا کہ چھے لڑکوں کو غار سے نکال لیا گیا ہے۔چیانگ رائی کے محکمہ صحت کے سربراہ ٹوساتھیپ بون تھانگ نے بتایا ہے کہ پہلے دو بچوں کو نکالا گیا۔پھر انھیں اس کے بعد غار کے نزدیک ایک فیلڈ اسپتال میں لے جایا گیا اور وہاں ان کا طبی معائنہ کیا گیا۔انھیں نکالنے کے لیے مشن کی کامیابی پر تھائی لینڈ کے علاوہ دنیا بھر میں بے پایاں خوشی کا اظہار کیا گیا ہے۔اس صوبے کے قائم مقام گورنر نیرونگ ساک اوساتا ناکورن نے آج سہ پہر کو ایک بیان میں کہا کہ ماہرغوطہ خور لڑکوں کو نکالنے کے لیے طبی عملہ کے ساتھ مل کر کام کریں گے اور وہ اس بات کا تعیّن کریں گے کہ باقی لڑکوں میں پہلے کس کو غار سے نکالا جائے گا۔غار کے دہانے اور فٹ بال ٹیم جس جگہ پھنسی ہوئی ہے،وہاں سے واپس آنے میں غوطہ خوروں کو گیارہ گھنٹے لگے ہیں۔صوبے کے قائم مقام گورنر کے مطابق امدادی کارروائیوں میں تیرہ غیر ملکی اور پانچ تھائی غوطہ خور حصہ لے رہے ہیں۔جمعہ کو تھائی بحریہ سیل کا ایک سابق اہلکار امدادی کارروائی کے دوران میں آ کسیجن کی کمی کی وجہ سے ہلاک ہوگیا تھا۔

جواب چھوڑیں