لاکمیشن کو چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کا مکتوب۔بیک وقت انتخابات کی تجویز نئی نہیں

چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے لوک سبھا اور اسمبلیوں کے بیک وقت انتخابات منعقد کرنے کے متعلق مرکزکی تجویز کی تائید کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس ضمن میں چیف منسٹر کی جانب سے لاء کمیشن کو تائیدی مکتوب روانہ کیا گیا۔ لاء کمیشن کی جانب سے ملک کے طول وعرض سے سیاسی جماعتوں سے اس موضوع پر اپنی رائے دینے کی خواہش کی گئی تھی ۔ آج رکن پارلیمنٹ کریم نگر بی ونود کمار نے نئی دہلی میں سپریم کورٹ کے سابق جج اور لاء کمیشن آف انڈیا کے صدرنشین بی ایس چوہان سے ملاقات کرتے ہوئے کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے روانہ کردہ مکتوب ان کے حوالہ کیا ۔ اس مکتوب میں چیف منسٹر تلنگانہ نے تحریر کیا کہ لوک سبھا اورریاستی اسمبلیوں کے انتخابات کی تیاری کیلئے چار تا چھ ماہ کا عرصہ درکار ہے۔ ملک میں موجودہ رجحان کو دیکھتے ہوئے ہر پانچ سال میں دو، بار انتخابات کے انعقاد کے لئے ضلع نظم ونسق اور سیکوریٹی مشنری کی مصروفیات میں زبردست اضافہ ہوجاتا ہے ۔ انتخابات سے قبل ضابطہ اخلاق کا طویل عرصہ تک نفاذ، ریاستی حکومتوں کی جانب سے ترقیاتی وفلاحی اقدامات جاری رکھنے میں رکاوٹ ثابت ہورہا ہے ۔ پانچ سالوں میں دوبار عوامی دولت خرچ ہورہی ہے اور سیاسی پارٹی کے امیدواروں کو کثیر تعداد میں انتخابی اخراجات برداشت کرنا پڑرہا ہے ۔ اس پس منظر میں ٹی آر ایس کا احساس ہے کہ پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کے بیک وقت انتخابات کا انعقاد عمل میں لایا جانا چاہئے ۔ بعدازاں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بی ونود کمار نے کہا کہ پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کے ایک ساتھ انتخابات کے انعقاد کے موضوع پر1983 سے قومی سطح پر بحث جاری ہے اس مسئلہ کو بی جے پی نے پہلی بار نہیں اٹھایا بلکہ یہ مسئلہ کا فی عرصہ سے زیر بحث رہا ہے ۔ اگر اس طریقہ کار کو اختیار کیا جاتا ہے تو مرکزی وریاستی حکومتیں ایک ساتھ نظم ونسق چلاپائیں گی ۔ مکمل میعاد تک حکومتوں کو آزادی کے ساتھ کام کرنے کا موقع حاصل رہے گا ۔ موجودہ طور پر صورتحال بالکل برعکس ہے ۔ مرکزی حکومت کی تشکیل کے فوری بعد ساری توجہ ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات پر ٹکی رہتی ہے ۔ نریندر مودی کی زیر قیادت حکومت بننے کے بعد ہرسال کسی نہ کسی ریاست میں انتخابات منعقد ہورہے ہیں۔ جس کی وجہ سے وقت اور دولت ضائع ہورہی ہے ۔ 2019 میں دونوں تلگو ریاستوں میں اسمبلی انتخابات منعقد شدنی ہیں۔ اس لئے ٹی آر ایس کا احساس ہے کہ ملک اور ریاستوں میں بیک وقت انتخابات کا انعقاد عمل میں لایا جانا چاہئے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ 29جنوری کو صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کووند نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کے لئے بیک وقت انتخابات کے انعقاد کے لئے صحت مند، جامع مباحث کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ انہوںنے کہا تھا کہ ملک میں وقتاً فوقتاً انتخابات کے انعقاد سے شہریوں میں خدشات پائے جاتے ہیں۔ ان کے ان تاثرات سے چند دن قبل ہی وزیر اعظم نریندر مودی نے بیک وقت انتخابات منعقد کرنے کی وکالت کرتے ہوئے کہا تھا کہ انتخابات ، تہواروں کی طرح مقرر تواریخ پر منعقد کئے جانے چاہئیں تاکہ حکومتوں کو پانچ سال کی میعاد کی تکمیل تک کام کرنے کا موقع مل سکے۔

جواب چھوڑیں