نیوکلیر پروگرام کے خاتمہ پر ہی پابندیوں کی برخواستگی: امریکہ

مائیک پومپیو نے شمالی کوریا کے دورے کے بعد اتوار کو ٹوکیو میں جاپانی اور جنوبی کوریائی وزرائے خارجہ سے ملاقات کی۔ٹوکیو میں صحافیوں سے گفتگو میں امریکی وزیرِ خارجہ نے ایک بار پھر شمالی کوریا کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ ہونے والی اپنی بات چیت کو سود مند قرار دیا۔امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ جب تک شمالی کوریا اپنا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم نہیں کردیتا اور اس کے تمام ہتھیاروں کے تلف کیے جانے کی تصدیق نہیں ہوجاتی، اس وقت تک اس پر پابندیاں برقرار رہیں گی۔اتوار کو ٹوکیو میں جنوبی کوریا اور جاپان کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں مائیک پومپیو نے کہا کہ گو کہ ہم شمالی کوریا سے ہونے والی بات چیت میں پیش رفت سے بہت پرامید ہیں لیکن محض پیش رفت اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کا جواز نہیں بن سکتی۔امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کو اس وعدے کے عین مطابق اپنے تمام جوہری ہتھیار ختم کرنے ہوں گے جو اس کے سربراہ کم جونگ ان نے 12 جولائی کو سنگاپور میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ اور چیئرمین کم نے اتفاق کیا تھا کہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے مکمل خاتمے کی تصدیق کے لیے باقاعدہ نظام وضع کیا جائے گا اور اس کے بعد ہی شمالی کوریا پر سے پابندیاں اٹھائی جائیں گی۔مائیک پومپیو شمالی کوریا کے دو روزہ دورے کے بعد ہفتے کی شب جاپان پہنچے تھے۔ ان کے اس دورے کے اختتام پر شمالی کوریا کی حکومت کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ “غنڈوں” کی طرح جوہری ہتھیاروں کے مکمل اور فوری خاتمے پر اصرار کر رہا ہے۔امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ پیونگ یانگ حکومت کے جوہری پروگرام کے خاتمے کے لیے بات چیت جاری رہیں گی۔ ٹوکیو میں اپنے جاپانی اور جنوبی کوریائی ہم منصبوں کے ساتھ ملاقات کے بعد پومپیو نے کہا کہ شمالی کوریا کے ساتھ متعدد امور پر پیش رفت ہو چکی ہے، جب کہ بعض معاملات پر ابھی کام ہونا باقی ہے۔ ان نے اس یقین کا اظہار کیا کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اْن گزشتہ ماہ سنگاپور میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے وعدے پر قائم ہیں۔

جواب چھوڑیں