کٹھوعہ عصمت ریزی و قتل کیس کے پیچھے ’جہادی عناصر‘ ۔ وکیل صفائی کا دعویٰ

کٹھوعہ عصمت ریزی و قتل کیس میں بعض ملزمین کی طرف سے پیش ہونے والے ایک وکیل صفائی انکور شرما نے آج دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ ہولناک واقعہ کے پیچھے ’’جہادی عناصر‘‘ ہیں اور یہ کہ جموں و کشمیر میں مذہبی آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنے 8 سالہ لڑکی کی نعش کو اس مقام پر ڈال دیا گیا تھا۔ انکور شرما نے مذکورہ الزام کی تائید میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا۔ کل ہی مذکورہ کیس میں شکایت کنندہ نے ضلع و سیشن کورٹ (پٹھان کورٹ) میں اپنے بیان کی قلمبندی مکمل کرائی ۔ اس بیان میں شکایت کنندہ نے کہا کہ ایک اصل ملزم سانجھی رام اس خانہ بدوش فرقہ کو نشانہ بناتا آرہا تھا ، تاکہ یہ قبیلہ کٹھوعہ موضع میں سکونت اختیار نہ کرنے پائے۔ قبل ازیں موصولہ یو این آئی کی اطلاع کے بموجب وحشیانہ کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس کے ملزمین کے وکیل انکر شرما نے انتہائی متنازع بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ضلع کٹھوعہ کے رسانہ میں گجربکروال خاندان سے تعلق رکھنے والی آٹھ سالہ بچی کا کوئی ریپ اور قتل نہیں ہوا بلکہ وہاں لاش کو پلانٹ کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ لاش کو پلانٹ کرنے کا مقصد رسانہ کے ہندوؤں کو کمزور کرکے وہاں کی جنگلی اراضی پر قبضہ جمانا تھا۔ انکور شرما نے ان متنازع باتوں کا اظہار اتوار کے روز یہاں پریس کلب جموں میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے محبوبہ مفتی کی قیادت والی سابقہ مخلوط حکومت کے گرنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک وہابی، سلفی، شدت پسند اور اسلام پسند حکومت تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ محترمہ مفتی نہ صرف جنگجو تنظیموں کے ساتھ رابطے میں ہیں بلکہ وہ ان تنظیموں کے تئیں ہمدردی بھی رکھتی ہیں۔ انکور شرما جنہوں نے کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس سامنے آنے کے دن سے اب تک متعدد متنازع بیانات دیے ہیں، نے عصمت دری کے اس کیس کو سی بی آئی کے حوالے کرنے اور 14 فروری کو منعقد ہوئی محکمہ قبائلی امور کی ایک میٹنگ کے ’منٹس‘ (جس میں مبینہ طور پر گجر بکروالوں کو کہیں بھی جنگلی اراضی پر اراضی طور رہنے کا حق دیا گیا ہے)کو واپس لینے کا گورنر سے مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے کہا ’رسانہ کا کیس جان بوچھ کر سی بی آئی کے حوالے نہیں کیا گیا۔ آج پوری ذمہ داری کے ساتھ اور معقول انفارمیشن و شواہد کی بناء پر میں آپ کے سامنے یہ کہہ رہا ہوں کہ رسانہ میں جو مبینہ ریپ اور قتل ہوا ہے، یہ ایک جہادی قتل ہے۔ وہاں پر باڈی کو پلانٹ کیاگیا۔

جواب چھوڑیں