باغپت جیل میں منا بجرنگی کو گولی ماردی گئی

دلیرانہ جرم میں باغپت ضلع جیل میں پیر کی صبح ایک خطرناک نشانہ باز کو مبینہ طورپر ایک اور قیدی نے گولی مارکر ہلاک کردیا۔ پریم پرکاش عرف منا بجرنگی کو جبری وصولی کے کیس میں پیشی کے لئے جھانسی سے باغپت لایا گیا تھا۔ مغربی اترپردیش میں سرگرم ایک اور ڈان (جرائم پیشہ سرغنہ) سنیل راٹھی نے پیر کی صبح 6 بجے ہاتھاپائی کے بعد گولی ماردی۔ ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل (جیل) چندرپرکاش نے یہ بات بتائی۔ راٹھی نے منا بجرنگی کو 10 گولیاں ماریں اور آتشیں اسلحہ‘ جیل کے اندر موجود گٹر میں پھینک دیا۔ چیف منسٹر اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ نے جو مرادآباد میں تھے ‘ عدالتی تحقیقات کا حکم دیا اور 4 جیل عہدیداروں کو معطل کردیا۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس(نظم وضبط) پروین کمار نے یو این آئی کو بتایا کہ ایک قیدی نے منا بجرنگی کو پیر کی صبح گولی ماردی۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے مرادآباد میں اخباری نمائندوں سے کہا کہ جیل کے اندر ایسا واقعہ‘ سنگین معاملہ ہے۔ گہرائی سے تحقیقات ہوں گی اور خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ اسی دوران منا بجرنگی کے ارکان خاندان بشمول بیوی سیما سنگھ اپنا احتجاج درج کرانے لکھنو میں چیف منسٹر کے بنگلہ پر پہنچے لیکن چیف منسٹر کی شہر میں عدم موجودگی کے باعث لوٹ گئے۔ 29 جون کو سیما نے اپنے شوہر کے لئے پروٹیکشن کا مطالبہ کیا تھا۔ منا بجرنگی کے وکیل وی سریواستو نے باغپت میں کہا کہ ہم نے چیف منسٹر کو واقف کرادیا تھا کہ منا بجرنگی کی جان کو خطرہ ہے۔ پرنسپل سکریٹری (داخلہ) اروند کمار نے کہا کہ باغپت جیل کے 4 عہدیدار اُدئے پرتاپ سنگھ(جیلر) ‘ شیواجی یادو (ڈپٹی جیلر) ‘ ارجندر سنگھ(ہیڈ وارڈن) اور مادھو کمار(وارڈن) کو معطل کردیا گیا ہے۔ یہ بھی پتہ چلایا جائے گا کہ گولی چلانے والے قیدی کو جیل میں بندوق کہاں سے ملی۔ ملزم راٹھی کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی جو فی الحال پولیس تحویل میں ہے۔ قومی انسانی حقوق کمیشن کو اطلاع کردی گئی ہے۔ منا بجرنگی یوپی میں کم ازکم 40 ہلاکتوں میں ملوث بتایا جاتا ہے۔ وہ غازی پور میں 2005 میں بی جے پی رکن اسمبلی کرشنند رائے کے قتل کا اصل ملزم تھا۔ وہ 9 برس سے جیل میں تھا۔ منا بجرنگی نے 2012 میں ضلع جونپور کی مریاہو نشست سے یوپی اسمبلی الیکشن لڑا تھا۔ وہ اپنا دَل اور پیس پارٹی کا مشترکہ امیدوار بنا تھا اور 12 فیصد ووٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر آیا تھا۔ آئی اے این ایس کے بموجب خطرناک جرائم پیشہ منا بجرنگی کو اترپردیش کے باغپت کی کڑے پہرہ والی جیل میں پیر کی صبح گولی ماردی گئی۔ پولیس نے یہ بات بتائی۔ عدالتی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔ 51 سالہ مجرم پر 10 مرتبہ گولی چلائی گئی اور اس کی نعش جیل کے اندر ایک گٹر میں پھینک دی گئی۔ ضلع عدالت میں پیشی کے لئے منا بجرنگی کو اتوار کو دیر گئے جھانسی جیل سے باغپت جیل لایا گیا تھا۔ ریاست کے مشرقی حصہ میں لگ بھگ 30 برس تک اس کا دبدبہ تھا۔ اسے باغپت کے سابق رکن اسمبلی لوکیش دکشت کے 2 سال قبل دائرکردہ جبری وصولی کیس کی سماعت کے لئے باغپت لایا گیا تھا۔ اسے ایک کوٹھری میں تنہا رکھا گیا تھا۔ باغپت جیل میں وکی سنہڑہ اور سنیل راٹھی جیسے خطرناک مجرم پہلے سے قید ہیں۔ صرف 10 دن قبل منا بجرنگی کے خاندان نے اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ اس کی جان خطرہ میں ہے ۔ اس کی بیوی سیما نے جج سے درخواست بھی کی تھی کہ منا بجرنگی کو باغپت نہ بھیجا جائے‘ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ سماعت ہو۔ سیما کا الزام تھا کہ ریاستی پولیس کی اسپیشل ٹاسک فورس(اے ٹی ایف) منا بجرنگی کو ختم کرنے کی سازش کررہی ہے ۔منا بجرنگی کو ممبئی کے ملاڈ علاقہ سے دہلی پولیس نے 29 اکتوبر 2009 کو گرفتار کیا تھا اور اس کے بعد سے وہ جیل میں بند تھا۔

جواب چھوڑیں