تاج محل کی مسجد میں غیرمقامی افراد کے نماز جمعہ ادا کرنے پر پابندی

سپریم کورٹ نے آج کہا کہ اُن لوگوں کو جو آگرہ کے شہری نہیں ہیں‘ تاج محل کے اندر واقع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے نہیں دیا جائے گا۔ عدالت نے کہا کہ تاریخی عمارت دنیا کے سات عجائبات میں ایک ہے اور اس کا تحفظ کیا جانا چاہئے۔ جسٹس اے کے سیکری اور جسٹس اشوک بھوشن پر مشتمل بنچ نے کہا کہ شہر آگرہ میں کئی دیگر مساجد ہیں اور غیرمقامی لوگ وہاں نماز ادا کرسکتے ہیں۔عدالت نے اس درخواست کو مسترد کردیا جس میں آگرہ کے ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ(سٹی) کے 24 جنوری کے احکام کو چیلنج کیا گیا تھا۔ ایڈیشنل ضلع مجسٹریٹ(سٹی) نے تاج محل کی سیکوریٹی کی بنیاد پر تاریخی عمارت کے اندر واقع مسجد میں غیرمقامی لوگوں کے نماز جمعہ ادا کرنے پر پابندی عائد کردی تھی۔ سپریم کورٹ بنچ نے سوال کیا کہ غیرمقامی لوگ تاج محل میں نماز کے لئے کیوں جائیں؟ ۔ شہر میں اور بھی مسجدیں ہیں جہاں وہ عبادت کے لئے جاسکتے ہیں۔ تاج محل مسجد انتظامی کمیٹی آگرہ کے صدر سید ابراہیم حسین زیدی نے اپنے وکیل کے ذریعہ داخل درخواست میں کہا کہ ہر شخص کو مسجد میں جانے اور نماز ادا کرنے کی اجازت ملنی چاہئے۔ درخواست گذار نے یہ بھی کہا کہ سال بھر کئی سیاح آگرہ آتے رہتے ہیں اور 24 جنوری کے احکام غیرقانونی‘ من مانی اور غیردستوری ہیں۔ سیکوریٹی کی بنیاد پر مقامی شہریوں اور غیرمقامی لوگوں میں جو تفریق برتی گئی ہے وہ قابل فہم یا معقول بنیاد پر نہیں ہے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ جب آگرہ کے مقامی لوگوں کو سیکوریٹی ایجنسیاں جھڑتی لے کر تاج محل کے اندر واقع مسجد میں جانے دیتی ہیں تو اسی طرح غیرمقامی لوگوں کو بھی اندر جانے دیا جاسکتا ہے۔ غیرمقامی لوگوں کو مسجد میں نماز کی ادائیگی سے روکنا ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ غور طلب ہے کہ تاج محل کامپلکس کے تمام امور کا نگراں محکمہ آثارِ قدیمہ ہے۔ آئی اے این ایس کے بموجب سپریم کورٹ نے پیر کے دن غیرمقامی لوگوں کو تاج محل کے احاطہ میں واقع مسجد میں نماز کی ادائیگی کی اجازت سے انکار کیا اور کہا کہ تاج تاریحی عمارت ہے جس کا شمار سات عجائبات ِ عالم میں ہوتا ہے۔ اس کا تحفظ بہرحال ہونا چاہئے۔ جسٹس اے کے سیکری اور جسٹس اشوک بھوشن پر مشتمل بنچ نے کہا کہ صرف تاج محل کے اندر واقع مسجد میں نماز کی ادائیگی ضروری نہیں ہے۔ بنچ نے پوچھا کہ نماز کی ادائیگی کے لئے تاج محل ہی کیوں جایا جائے جبکہ شہر میں اور بھی کئی مسجدیں ہیں۔ درخواست گذار سید ابراہیم حسین زیدی نے استدلال کیا تھا کہ کئی سیاح سال بھر آگرہ آتے رہتے ہیں اور انہیں تاج کامپلکس میں نماز سے روکنا غیرقانونی ہے۔ ضلع انتظامیہ نے عالمی ورثہ کی عمارت کی پختہ سیکوریٹی یقینی بنانے 24 جنوری کو حکم جاری کیا تھا کہ شناختی کارڈ رکھنے والے ہی نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے تاج کامپلکس میں داخل ہوسکیں گے۔ جمعہ کے دن تاج محل سیاحوں کے لئے بند رہتا ہے لیکن نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے لوگوں کو اندر جانے دیا جاتا ہے۔ آگرہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ غیرمقامی لوگوں کے داخلہ سے عمارت کی سیکوریٹی جوکھم میں پڑسکتی ہے۔ شکایت ملی تھی کہ نماز جمعہ کی ادائیگی کے بہانہ بنگلہ دیشی اور غیرہندوستانی لوگ تاج کامپلکس میں داخل ہوجاتے ہیں۔

جواب چھوڑیں