ترکی میں ٹرین حادثہ‘ 24 مسافرین ہلاک

شمال مغربی ترکی میں موسلادھار بارش کے باعث زمین کھسکنے سے مسافروں سے بھری ایک ٹرین پٹری سے اترگئی۔ 24 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے ۔ٹرین جس میں 360 سے زائد افراد سوار تھے ‘ یونان اور بلغاریہ کی سرحد پر واقع علاقہ سے استنبول جارہی تھی کہ اتوار کے دن اس کے 6 ڈبے پٹری سے اترگئے۔ نائب وزیراعظم رجب نے کہا کہ 24 جانیں گئی ہیں۔ سرکاری نیوز ایجنسی اندولو نے نائب وزیراعظم کے حوالہ سے اطلاع دی کہ پٹری سے اترے ڈبوں میں مسافرین کی تلاش کا کام پیر کی صبح مکمل ہوگیا۔ ترک میڈیا نے وزیر صحت کے حوالہ سے کہا کہ 338 افراد کو ہسپتال میں علاج کی ضرورت پڑی۔ 124 ہنوز زیرعلاج ہیں۔ وزارت ِ ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ ٹرین میں 362 مسافرین سوار تھے اور موسلادھار بارش کے باعث پٹریوں کے نیچے کی مٹی بہہ جانے سے یہ حادثہ پیش آیا۔ ٹی وی پر دکھایا گیا کہ ٹرین کے ڈبے بکھرے پڑے ہیں اور زخمی مسافرین کو اسٹریچرس پر لے جایا جارہا ہے۔ صدر رجب طیب اردغان نے انسانی جانوں کے اتلاف پر اظہار ِ تعزیت کیا۔ یہ حادثہ حالیہ عرصہ میں ترکی کے بدترین حادثوں میں ایک ہے۔ پیر کے دن رجب طیب اردغان کی حلف برداری سے ایک دن قبل یہ حادثہ پیش آیا۔ ترکی کی آڈیو ویژول اتھاریٹی نے بتایا کہ حکومت نے حادثہ کی تصاویر دکھانے پر عارضی امتناع عائد کیا تھا جسے پیر کی صبح برخواست کردیا گیا۔ ترک حکام نے اردغان کے تحت گذشتہ برسوں میں ترکی کے ریل نیٹ ورک کی جدیدکاری کی کوشش کی ہے۔ کئی تیز رفتار انٹرسٹی لائنس بچھائی گئیں۔ ایک شہر سے دوسرے شہر جانے کے لئے ترک مسافرین عام طورپر ہوائی جہاز یا بسوں کو ترجیح دیتے ہیں لیکن اب ہائی اسپیڈ لائنوں کی وجہ سے وہ ٹرین کا سفر کرنے لگے ہیں۔ کل جو حادثہ ہوا وہ سنگل لائن کی سست رفتار ٹرین کو پیش آیا۔ حالیہ عرصہ میں ترکی میں کئی ٹرین حادثے ہوچکے ہیں۔ 2004 میں ترکی کے شمال مغربی صوبہ میں ایک ہائی اسپیڈ ٹرین پٹری سے اترگئی تھی۔ اُس وقت 41 افراد ہلاک اور 80 زخمی ہوئے تھے۔

جواب چھوڑیں