سپریم کورٹ اپنی کارروائی کے راست ٹیلی کاسٹ پر آمادہ

 کھلاپن اور جواب دہی لانے کے مقصد سے ایک اقدام میں سپریم کورٹ نے پیر کے دن کہا کہ وہ ’’جامع رہنمایانہ خطوط‘‘ کے تحت اپنی کارروائی کے راست ٹیلی کاسٹ کے تعلق سے کھلا ذہن رکھتی ہے۔ چیف جسٹس دیپک مشرا ‘ جسٹس اے ایم کھنولکر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ پر مشتمل بنچ نے کہا کہ ایک عدالت سے لائیو اسٹریمنگ (راست ٹیلی کاسٹ) پائلٹ پراجکٹ کے طورپر شروع کیا جاسکتا ہے اور بعدازاں اسے مابقی عدالتوں تک توسیع دی جاسکتی ہے۔ بنچ نے اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال اور دیگر سینئر ججس کا مشورہ مانگا۔ وینوگوپال نے عدالت کو بتایا کہ عدالت اگر اپنی کارروائی کے راست ٹیلی کاسٹ کا فیصلہ کرے تو حکومت ‘ لوک سبھا ٹی وی اور راجیہ سبھا ٹی وی کی طرح ایک خصوصی چیانل شروع کرسکتی ہے۔ جسٹس چندرچوڑ نے کہا کہ عدالتی کارروائی کے راست ٹیلی کاسٹ سے کھلاپن آئے گا‘ انصاف تک رسائی ہوگی۔ جن کے کیسس چل رہے ہیں انہیں معلوم ہوگا کہ ان کے کیس کی سماعت میں کیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ شاید میں عدالت میں موجود نہ رہوں تب بھی میں جان سکوںگا کہ وہاں ہوا کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے بموجب سپریم کورٹ نے عدالت کی کارروائیوں کے لائیو ٹیلی کاسٹ کو ’’وقت کا تقاضہ‘‘ قرار دیا اور مرکز کی اس تجویز سے اتفاق کیا کہ عدالتی کارروائی کی ٹیلی کاسٹ انجام دی جاسکتی ہے۔ اس معاملہ پر ایک ’’کلیت پسندانہ‘‘ نقطۂ نظر اختیار کرنے عدالت نے تجاویز طلب کی ہیں۔

جواب چھوڑیں