فلمی نقاد‘ کے مہیش پر 6ماہ کیلئے شہر میں داخلہ پر امتناع

پولیس نے پیر کو فلمی تبصرہ نگار کتی مہیش پر شہر میں داخلہ پر امتناع عائد کردیا ہے لارڈ رام جی اور سیتا کے بارے ان کے حالیہ متنازعہ ریمارکس اور اس کے بعد ہندو تنظیموں کے شدید احتجاج کے تناظر میں پولیس نے یہ فیصلہ کیا ہے پولیس ذرائع کے بموجب مہیش پر شہر میں داخلے سے متعلق امتناعی احکام جاری کئے گئے ہیں۔ تلنگانہ کے ڈائرکٹر آف پولیس (ڈی جی پی) ایم مہندر ریڈی نے مہیش پر شہر میں داخلہ پر امتناع عائد کرنے کے فیصلہ سے قبل اعلیٰ پولیس عہدیداروں کے ساتھ تبادلہ خیال کیا جس میں انہوں نے فلمی نقاد کتی مہیش کے حالیہ متنازعہ ریمارکس اور اس کے بعد ہندو تنظیموں کے احتجاج پر غور وخوض کیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ مہیش کو آندھراپردیش پولیس کے حوالے کردیا جائیگا۔ دریں اثناء پولیس نے سوامی پری پورنا ننداکو ان کے مکان چوٹ اوپل سے یادادری تک یاترا نکالنے سے روک دیا۔ سوامی نے ہندو بھگوانوں کی اہانت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے مکان سے یاترا منظم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈی جی پی ایم مہندر ریڈی نے کہا کہ مہیش پر 6ماہ تک شہر میں داخل ہونے پر امتناع عائد کردیا گیا ہے اور اس سلسلہ میں امتناعی احکام بھی جاری کئے جاچکے ہیں۔ 6ماہ تک مہیش‘ شہر میں داخل نہیں ہوپائیں گے۔ اگر وہ‘ پولیس کی اجازت کے بغیر شہر میں داخل ہونے کی کوشش کریں گے تو انہیں گرفتار کرلیا جائے گا۔ مہندر ریڈی نے کہا کہ فلمی دنیا کے ممتاز نقاد مانے جانے والے کے مہیش کو ان کے آبائی مقام چتور روانہ کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ متنازعہ ریمارکس پر مہیش کو3 سال قید کی سزا بھی ہوسکتی ہے۔ ان پر لارڈ رام جی اور سیتا کے خلاف متنازعہ ریمارکس کا الزام ہے جس کے بعد ہندو تنظیموں کے کارکنوں نے مہیش کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ ڈی جی پی نے مزید کہا کہ تشکیل تلنگانہ کے بعد گذشتہ ساڑھے 4برس سے ریاست میں نظم وضبط کا کوئی مسئلہ نہیں رہا ہے۔

جواب چھوڑیں