وزیر خارجہ برطانیہ مستعفیتھریسا مے کو سیاسی بھونچال کا سامنا

وزیر اعظم برطانیہ تھریسا مے کی حکومت آج اس وقت ایک سیاسی بھونچال میں گھرگئی جب اُس کے دو سینئر کابینی وزراء بشمول وزیر خارجہ بورس جانسن نے استعفیٰ دے دیا۔ اس طرح آئندہ سال یوروپین یونین سے قطع تعلق کرلینے کی وزیر اعظم برطانیہ کی حکمت ِ عملی پر پھوٹ بڑھ جانے کے آثار نمایاں ہوگئے ہیں۔ برگزٹ مذاکرات کے انچارج وزیر ڈیویڈ ڈیوس کے استعفیٰ کے دو ہی گھنٹے بعد مسٹر جانسن نے بھی جو، کابینہ میں موافق برگزٹ وزراء کے ’پوسٹر بوائے‘ سمجھے جاتے ہیں ، استعفیٰ دے دیا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تھریسا مے نے یورپین یونین کے ساتھ برطانیہ کے مابعد ۔ برگزٹ تعلقات پر اپنی منقسمہ کابینہ کے ساتھ ایک معاملت سے اتفاق کرلیا تھا ، لیکن اب یہ معاملہ لیت و لعل میں پڑ گیا ہے اور تھریسا مے کا سیاسی مستقبل غیریقینی نظر آتا ہے ۔ مسٹر بورس جونسن آج صبح دفتر خارجہ نہیں پہنچے ۔ اس سبب ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملی ہے کہ اُلجھن سے دوچار وزیر اعظم برطانیہ کے لیے مزید مشکلات کا سامنا ہوگا۔ ڈوننگ اسٹیٹ کے ایک ترجمان نے بتایا کہ وزیر اعظم نے آج سہ پہر معتمد ِ خارجہ (وزیر خارجہ) کے عہدہ سے مسٹر بورس جانسن کا استعفیٰ قبول کرلیا ہے۔ ان کے جانشین کا اعلان عنقریب کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے بورس کی کارکردگی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

جواب چھوڑیں