ڈیجیٹل ٹکنالوجی کاعوام کی زندگی کو سہل بنانے میں کلیدی رول: نریندر مودی

وزیراعظم نریندر مودی اور جمہوریہ کوریا کے صدر مون جے اِن نے آج مشترکہ طور پر نوئیڈا میں سیمسنگ انڈیا الیکٹرانکس پرائیویٹ لمیٹڈ کے موبائل بنانے والے ایک بڑے کارخانے کا افتتاح کیا۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے ہندوستان کو ایک عالمی معیار کا مینوفیکچرنگ ہب بنانے کے سفر میں اس موقع کو خصوصی اہمیت کا حامل قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ تقریباً پانچ ہزار کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری سے نہ صرف ہندوستان کے ساتھ سیمسنگ کے تجارتی روابط مضبوط ہوں گے ، بلکہ یہ ہندوستان اور کوریا کے درمیان باہمی رشتوں کے تناظر میں بھی کافی اہم ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تیزتر اور مزید شفافیت کے ساتھ خدمات دستیاب کراکر عوام الناس کی زندگی کو سہل بنانے میں کلیدی کردار ادا کررہی ہے ۔انھوں نے اسمارٹ فون، براڈ بینڈ اور ڈیٹا کنیکٹیوٹی کے شعبوں میں توسیع کا ذکر کرتے ہوئے اسے ہندوستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی علامات قرار دیا۔اس تناظر میں انھوں نے گورنمنٹ ای۔مارکیٹ پلیس (جی ای ایم۔جیم) ڈیجیٹل لین دین میں اضافہ، بھیم ایپ اور روپئے کارڈ کے بارے میں بھی بات کی۔انھوں نے کہا کہ میک اِن انڈیا مہم محض ایک اقتصادی پالیسی سے متعلق اقدام نہیں ہے ، بلکہ یہ جنوبی کوریا جیسے دوست ملکوں کے ساتھ بہتر تعلقات کے عزم کا اظہار بھی ہے ۔انھوں نے کہا کہ نیوانڈیا میں شفاف بزنس کلچر سے فائدہ اٹھانے کے خواہش مند دنیا بھر کے کاروباریوں کو ایک کھلی دعوت ہے ۔ مون جے ان نے کہاکہ ہندوستان دنیا کے سب سے تیز رفتار ترقی کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے۔ یہاں دو برس سے اسمارٹ فون بازار میں سیمسنگ دوسرے نمبر پر رہی ہے۔ ہندستان میں تیارہ شدہ اسمارٹ فونوں کی برآمد مغربی ایشیا اور افریقی ممالک میں کی جائے گی۔ انہوں نے اطلاعاتی ٹکنالوجی اور ایرواسپیس میں ہندوستان کی صلاحیتوں کا تعریف کی۔ ساتھ ہی انہوں نے قدیم ہندستانی تہذیب اور سائنس کے شعبہ میں ہندستان کی پرانی کامیابیوں کی بھی تعریف کی اور کہاکہ دونوں ملک ایک دوسرے کے لئے اچھے شراکت دار ثابت ہوں گے۔اس موقع پر اترپردیش کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے کہاکہ ہندوستان اور کوریا کے تعلقات بہت پرانے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ 2020تک اس پلانٹ میں ہر برس 12کروڑ موبائل فون بننے لگیں گے جس کی سالانہ صلاحیت ابھی 6.8کروڑ ہے۔

جواب چھوڑیں