ہیری کین اور رومیلو لوکاکو میں گولڈن بوٹ کیلئے مقابلہ

کئی نشیب و فراز کے حامل فٹبال ورلڈکپ میں 60 میاچس پورے ہوچکے ہیں اور کھلاڑیوں کی ٹھوکر سے 157 گیندوں کو جال میں داخلہ کی اجازت ملی۔ کروشیا اور بلجیم نے ناقابل شکست رہتے ہوئے سیمی فائنل میں کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا جبکہ انگلینڈ اور فرانس کی 1-1 مرتبہ مخالف ٹیموں کے سامنے ہمت جواب دے گئی۔ میدان پر نظم و ضبط کی عدم پاسداری پر ریفریز نے 205 مرتبہ یلو کارڈز بھی جاری کئے جبکہ 4 کھلاڑیوں کو ریڈ کارڈز ملنے کی صورت میں ٹیم کا ساتھ چھوڑکر فیلڈ سے جانا پڑا۔ 60 میاچس کے دوران مختلف ٹیموں نے 46 ہزار 172 مرتبہ پاسس دیئے اور ہر میچ میں گول کرنے کی اوسط 2.6 رہی۔ بلجیم کی میگا ایونٹ میں شاندار کارکردگی کا ثبوت سب سے زیادہ 14 گول کرنے سے بھی ملتا ہے اور اگر فیلڈ پر بہترین اٹیک کی بات کی جائے تو 5 مرتبہ کے عالمی چمپئن برازیل کے نام قرعہ فال نکلتاہے جس نے مخالف ٹیموں کے گول پوسٹ پر 292 منظم حملے کئے۔ اسپین کے کھلاڑیوں نے فیلڈ پر متحرک ہوکر 3120 مرتبہ ایک دوسرے کو پاسس دیئے جبکہ بہترین دفاع میں میزبان روس بازی لے گیا جس نے 259 مرتبہ کلیئرنس، ٹیکل اور سیوز کی بدولت کروڑوں شائقین کے دل جیت لئے۔ گراؤنڈ میں نظم وضبط کی خلاف ورزی میں کولمبیا کے کارلوس سانچیز کا نام گونجتا رہا جنہیں ریفری نے 6 مرتبہ فاؤل پر قابل گرفت سمجھا، انہیں ڈسپلن کی خلاف ورزی پر ایک یلو اور ایک ریڈ کارڈ بھی دکھایا گیا۔ انفرادی طورپر سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑیوں میں انگلینڈ کے کپتان ہیری کین اور رومیلو لوکاکو کا نام سب سے آگئے ہیں اور دونوں کے درمیان گولڈ بوٹ مقابلہ ہو رہاہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اس مقابلہ میں انگلش کپتان ہیری کین کو جیت حاصل ہوسکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *