جاپان میں سیلاب کے بعداشیائے ضروریہ کابحران‘عوام پریشان

جاپان کے مغربی علاقہ میں گزشتہ کئی دن سے جاری شدید بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں منگل کی صبح تک کم از کم 130 افراد ہلاک ہو گئے اور زندہ بچ جانے والے روزمرہ کی اشیائے ضروریہ کی بھاری کمی، شدید گرمی اور پینے کے پانی کی قلت کا شکار ہیں۔ پانی سے ہونے والے واقعات میں سینکڑوں لوگ اب بھی لاپتہ ہیں جن کی تلاش کی جا رہی ہے۔موسلادھار بارش کے بعد سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگوں کے مارے جانے کی وجہ سے وزیر اعظم شنزو آبے کو اپنا بیرون ملک کا دورہ منسوخ کرنا پڑا۔ سیلاب کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کو ان کے گھروں سے نکال کر محفوظ مقامات پر پہنچایا گیاہے۔سیلاب کی وجہ سے، لاکھوں مکانوں میں بجلی اور پانی کی فراہمی معطل ہو گئی تھی جن میں سے 3500 گھروں میں بجلی کی سپلائی بحال کر دی گئی ہے لیکن دو لاکھ سے زیادہ مکانوں میں پینے کے پانی کی فراہمی اب بھی معطل ہے۔ ?راشی?? جیسے انتہائی متاثرہ علاقوں میں نمی کی رطوبت کی سطح بہت زیادہ ہے اور درجہ حرارت 33 ڈگری سینٹی گریڈ پر ہونے سے لوگوں کو شدید گرمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔وزیر خزانہ تارو ا?سو نے کابینہ میٹنگ کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ درجہ حرارت میں انتہائی اضافہ کی وجہ سے ایئر کنڈیشنر لگانے کی کئی درخواستیں آئی ہیں۔ اس کے علاوہ بجلی، پانی کی فراہمی بحال کرنا بہت ضروری ہے۔بارش کی شدت میں اگرچہ تھوڑی کمی آئی ہے اور سیلاب کا پانی اترنے بھی لگا ہے لیکن اس سے سڑ?وں پر کیچڑ جمع ہے.کچھ جگہوں پر کیچڑ خشک ہے لیکن جب ریلیف گاڑی وہاں سے گزرتی ہیں تو دھول غبار اٹھتا ہے۔ ریلیف اور ریسکیو ٹیمیں ملبہ میں دبے لوگوں کی تلاش کر رہے ہیں۔

جواب چھوڑیں