ذاکر نائک مسئلہ، حکومت ملایشیا نے مختلف عوامل پر غورکیا: مہاترمحمد

وزیراعظم ملایشیا مہاترمحمد نے منگل کے دن کہاکہ ان کی حکومت نے متنازعہ اسلامی مبلغ کو ڈپورٹ نہ کرنے کا فیصلہ کرنے سے قبل مختلف عوامل پر غورکیا۔ ذاکرنائک‘ مبینہ دہشت گرد سرگرمیوں اور منی لانڈرنگ کے لئے ہندوستان میں مطلوب ہیں۔ وفاقی انتظامی مرکز پتراجایہ میں مہاتر نے کہا کہ ہم ہمیشہ دوسروں کی مرضی پر چلنے کے پابند نہیں۔ ہمیں وجوہات دیکھنی ہوں گی کہ آیا ذاکر نے قوانین کا پاس ولحاظ کیا یا نہیں ورنہ کوئی ناحق زیادتی کا شکارہوجائے گا۔ وہ ینیانگ کے ڈپٹی چیف منسٹر پی راماسامی کے اس مشورہ پر ردعمل ظاہرکررہے تھے کہ ذاکر نائک کو ان کے ملک واپس بھیج دیاجائے تاکہ ملایشیا اور ہندوستان کے باہمی تعلقات متاثر نہ ہوں۔ مہاترمحمد کی ہفتہ کے دن ذاکر نائک سے ملاقات ہوئی۔ وزیراعظم ملایشیا نے جمعہ کے دن کہاتھا کہ ان کی حکومت ذاکر نائک کو اس وقت تک ڈپورٹ نہیں کرے گی جب تک کہ ملایشیا میں کوئی خلافِ قانون کام نہ کریں۔ ذاکرنائک کو ملایشیا میں مستقل رہائش کا موقف حاصل ہے۔

جواب چھوڑیں