ہرمن پریت کور کے خلاف حکومت پنجاب کوئی کارروائی نہیں کرے گی

حکومت پنجاب خاتون کرکٹر ہرمن پریت کور کو جعلی ڈگری پیش کرنے پر ڈی ایس پی کے ہٹادے گی لیکن ان کے خلاف مجرمانہ کارروائی کے لئے کوئی پہل نہیں کی جائے گی۔ واقف کار ذرائع نے یہ بات بتائی۔ حکومت اور پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ جعلی صداقت نامہ اور دھوکہ دہی کے سلسلہ میں فوجداری کارروائی ہندوستان ٹی 20 ویمنس کرکٹ ٹیم کپتان کے خلاف نہیں کی جائے گی۔ گریجویشن کا سرٹیفکیٹ جو انہوں نے پنجاب پولیس ڈی ایس پی کی اہلیت کے دائرہ کار کے لئے داخل کیا تھا جس کی تحقیقات چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ سے پنجاب پولیس نے کی تب وہ جعلی ثابت ہوا۔ اس بات کا انکشاف ہوا کہ سرٹیفکیٹ حقیقی نہیں ہے اور نہ ہی وہ یونیورسٹی کی طالبہ تھی۔ ریاست نے اب اسے پولیس کی ملازمت پیش کش کیا ہے جو کہ 12ویں پاس سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر ہوگا۔ ہرمن پریت کا تقرر یکم ؍ مارچ کو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کی حیثیت سے پنجاب کے چیف منسٹر امریندر سنگھ نے کیا اور ڈائرکٹر جنرل پولیس اروڑا نے ان کے یونیفارم پر ستارے لگائے تھے۔ چیف منسٹر ہرمن پریت کو اس وقت ڈی ایس پی کے عہدہ کا پیش کیا تھا جن کا تعلق ضلع مونگا سے ہے۔ انہوں نے ویمنس ورلڈکپ 2017ء میں شاندار مظاہرہ کیا تھا جس کے بعد انہیں یہ اعزاز عطا کیا۔ امریندر سنگھ نے کہا تھا کہ پرکاش سنگھ بادل حکومت نے ان کی اس درخواست کو نامنظور کیا تھا کہ انہیں پنجاب پولیس نے شامل کیا جائے جو کہ ناانصافی پر مبنی تھا۔ ہرمن پریت قبل ازیں ریلوے میں سپرنٹنڈنٹ کے عہدہ پر فائز تھیں۔ امریندر سنگھ نے مداخلت کرتے ہوئے ریلوے سے انہیں ایک معاہدہ کے ذریعہ اپنے صوبہ پنجاب ڈی ایس پی کی حیثیت سے شامل کرنے کے لئے حاصل کیا تھا جب کہ ریاست کو فروری میں ریلویز سے رسمی اطلاع یہ موصول ہوئی تھیں انہیں عہدہ سے نکال دیا گیا۔ خاتون کرکٹر جو انگلینڈ کو روانہ ہونے والی ہے اس بارے میں اپنے رد عمل کا اظہار نہیں کیا۔ انہوں نے میڈیا سے کہا کہ انہیں اپنی ڈگری کے تعلق سے پیدا ہونے والے تنازعہ کے بارے میں نہیں۔

جواب چھوڑیں