امیت شاہ کی تنظیمی دورہ پر آج آمد ۔ تلنگانہ میں بی جے پی کی انتخابی تیاریوں کا جائزہ لینا مقصود

بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ کل13 جولائی کو تلنگانہ کا دورہ کریں گے جہاں وہ ، پارٹی قائدین کے ساتھ ریاست تلنگانہ میں اگلے سال لوک سبھا اور اسمبلی کے ایک ساتھ متوقع انتخابات کے پیش نظر پارٹی کی تیاریوں کا جائزہ لیں گے اور انتخابات کیلئے روڈ میاپ پر غور وخوض ومشاورت کریں گے ۔ امیت شاہ ، جمعہ کو10:30بجے دن بیگم پیٹ ایر پورٹ پہنچیں گے ۔ بعدازاں وہ پارٹی ورکرس سے خطاب کریں گے ۔ بی جے پی کے رکن مقننہ این رامچندر راؤ نے پی ٹی آئی کو یہ بات بتائی ۔ انہوںنے بتایا کہ امیت شاہ ، بی جے پی کے ریاستی صدر دفتر میں پارٹی کے کل وقتی ورکرس سے بھی خطاب کریں گے ۔ پارٹی نے ہر اسمبلی حلقہ سے کل وقتی ورکرس کو منتخب کیا ہے ۔ وہ ، پارٹی کے کور کمیٹی کے ارکان اور جنرل سکریٹری سے بھی تبادلہ خیال کریں گے ۔ شاہ کا دورہ مکمل تنظیمی رہے گا ۔ وہ، تازہ سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کریں گے ۔ پارٹی کے سمپرک سمرتھن پروگرام کے اختتام سے قبل وہ ممتاز عوامی شخصیات سے بھی ملاقات کریں گے ۔ ریاستی صدربی جے پی ڈاکٹر کے لکشمن نے جنہوںنے 14 روزہ طویل جنا چیتنیہ یاترا نکالی تھی، کہا کہ پارٹی نے تلنگانہ میں لوک سبھا کی زیادہ سے زیادہ نشستوں پر کامیابی کا نشانہ رکھا ہے۔ جبکہ ریاست میں لوک سبھا کی جملہ17 نشستیں ہیں ۔ بی جے پی نے پہلے ہی اعلان کیا ہے کہ وہ2019 کے انتخابات میں ریاست میں تنہا مقابلہ کرے گی ۔ تلنگانہ میں بی جے پی کاایک رکن لوک سبھا اور 5ارکان اسمبلی ہیں۔ ڈاکٹر لکشمن نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کے بعد ر یاست کا اقتدار حاصل کرنا بی جے پی کا عین مقصد ہے ممکن ہے کہ لوک سبھا اور اسمبلی کے انتخابات بیک وقت ہوسکتے ہیں۔ نمائندہ منصف کے بموجب لکشمن نے کہا کہ امیت شاہ ایک سال کے بعد حیدرآباد آرہے ہیں2019کے اسمبلی وپارلیمنٹ انتخابات کے لائحہ عمل کو قطعیت دینے امیت شاہ انتخابی کمیٹی اور بوتھ کمیٹی کے ارکان کے اجلاس سے خطاب کریں گے ۔ انہوںنے کہا کہ کسی بھی طرح تلنگانہ میں بی جے پی کو اقتدار پر فائز کیا جائے ، اس تعلق سے امیت شاہ ریاستی قائدین کو تجاویز اور مشورے دینگے انہوںنے کہا کہ ریاستی بی جے پی کی جانب سے حال ہی میں نکالی گئی جنا چیتنیہ یاترا پر عوام میں کافی جوش وخروش دیکھا گیا اس یاترا سے پارٹی ورکرس کے حوصلے بھی بلند ہوئے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ مودی اور امیت شاہ کی کامیاب حکمت عملی کے سبب آسام، ہریانہ، اور تریپورہ میں بی جے پی کو اقتدار حاصل ہوا ۔ اس فارمولے پر عمل کرتے ہوئے ہم تلنگانہ میں اقتدار پر فائز ہوں گے ۔ انہوںنے کانگریس پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس بحیثیت اپوزیشن ناکام ہوچکی ہے ۔انہوںنے کہا کہ ہم اسمبلی کی60 نشستوں پر کامیابی کے مشن پر ایک عرصہ سے کام کررہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ ٹی آر ایس بند کمرہ میں سروے کروارہی ہے جبکہ ہم عوام کے درمیان رہ کر سروے کروا رہے ہیں ۔ تلنگانہ میں ٹی آر ایس کو شکست دینے کیلئے مودی کا کرشمہ کام کرے گا ۔ ہم اسمبلی کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ پارلیمنٹ کی نشستوں پر کامیابی کا ٹارگٹ رکھ رہے ہیں۔ انہوںنے آخر میں کہا کہ سابق کی طرح اب بھی مسلمانوں کو پارٹی ٹکٹ دئیے جائیں گے ۔

جواب چھوڑیں