دہلی میںکچرے کے انبار۔عدم کارروائی پر سپریم کورٹ کی جانب سے ایل جی کی سرزنش

سپریم کورٹ نے آج کہا ہے کہ دہلی میں کچرے کے پہاڑ یہ نشاندہی کرتے ہیں کہ شہر خطرناک صورتحال کا سامنا کررہا ہے۔ عدالت نے ٹھوس فاضل انتظامیہ کے مسئلہ پر مناسب کارروائی نہ کرنے پر لفٹننٹ گورنر (ایل جی) کی سرزنش کی ہے۔ تین لینڈفل سائیٹس غازی پور، اوکھلا اور بھلسوا پر کچرے کے پہاڑ کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ارباب مجاز بشمول ایل جی کے دفتر کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی جس کے باعث دہلی سنگین مسئلہ کا سامنا کررہا ہے۔ جسٹس ایم بی لوکور اور دیپک گپتا پر مشتمل بینچ کو ایل جی کے دفتر اور حکومت نے بتایا کہ ٹھوس فاضل مینجمنٹ سے نمٹنا میونسپل کارپوریشنوں کی ذمہ داری ہے۔ بینچ نے ایل جی کے آفس کی جانب سے وضع کردہ اس مینجمنٹ کی پالیسی پر عمل آوری کو ناممکن قرار دیا۔ اس نے کہاکہ مشرقی دہلی کے میونسپل کارپویشن اور شمالی دہلی میونسپل کارپویشن کے پاس ان کے روزمرہ امور انجام دینے کے لئے فنڈس نہیں ہیں۔ عدالت نے ایل جی کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلہ پر 25 اجلاس منعقد کرنے کے باوجود دہلی ابھی بھی کچرے کے پہاڑ کے تحت ہے۔ بینچ نے ایل جی کے دفتر کو 16 ؍ جولائی تک ایک حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی جس میں صورتحال سے نمٹنے کے اقدامات پرموقتی چوکھٹے کی نشاندہی کی گئی ہو۔ دہلی حکومت اور ایل جی نے بھی بینچ کو مطلع کیا کہ ٹھوس کچرے کو تلف کرنے کے سلسلہ میں دہلی میونسپل کارپوریشن ایکٹ کے قواعد کے تحت متعلقہ ارباب مجاز کو ہدایت دینے کا ایل جی اختیار رکھتے ہیں۔

جواب چھوڑیں