ششی تھرور کے ’’ہندو پاکستان ‘‘ریمارکس پر تنازعہ

کانگریس قائد ششی تھرور کے ان ریمارکس پر جمعرات کے دن بڑا تنازعہ پیدا ہوگیا کہ بی جے پی پھر اقتدار پر آئی تو ہندو پاکستان بنے گا۔ کانگریس نے ششی تھرور سے کہا ہے کہ محتاط رہیں جبکہ بھگوا جماعت نے انہیں نشانہ تنقید بنایا۔ ترواننتاپورم کے رکن پارلیمنٹ نے تاہم پیچھے ہٹنے سے انکار کیا اور کہا کہ بی جے پی ۔ آر ایس ایس کا ہندو راشٹر کا نظریہ پڑوسی عدم روادار مملکت کی عکاسی کرتا ہے۔ ششی تھرور نے کہا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں اور پھر کہوں گا۔ پاکستان‘ ایک غالب مذہب والی مملکت کے طورپر وجود میں آیا جو اپنی اقلیتوں سے بھیدبھاؤ کرتی ہے ار انہیں مساوی حقوق نہیں دیتی۔ ہندوستان نے یہ منطق کبھی بھی قبول نہیں کی جس نے ملک کا بٹوارہ کرایا تھا لیکن بی جے پی۔ آر ایس ایس کا ہندو راشٹر کا نظریہ پاکستان کی عکاسی ہے۔ ہندو راشٹر ‘ ہندو پاکستان ہوگا اور یہ وہ نہیں جس کے لئے ہماری تحریک آزادی چلی تھی۔ یہ نظریہ ہندوستان بھی نہیں جس کی بات دستور کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان جیسے ہندو‘ اپنے عقیدہ کی سب کو ساتھ لے کر چلنے کی نوعیت کے قائل ہیں۔ وہ اپنے پاکستانی پڑوسیوں کی طرح رہنا نہیں چاہتے جنہیں ایک غیرروادار مذہبی مملکت میں مجبور کردیا گیا ہے۔ ہم ہندوستان کو باقی رکھنا چاہتے ہیں۔ ہم اپنے محبوب ملک کو پاکستان کی ہندو شکل دینا نہیں چاہتے۔ بی جے پی نے تنقید کی تھی کہ تھرور کا ہندوستانی جمہوریت کو ایسی گالیاں دینا کانگریس کا ’’وصف‘‘ بن چکا ہے۔ بی جے پی ترجمان سمبیت پاترا نے کہا کہ ہندو پاکستان کہہ کر آپ نے ہندوستانی جمہوریت پر حملہ کیا ہے۔ کانگریس نے ملک کے ہندوؤں پر حملہ کیا ہے۔ یہ قابل مذمت ہے۔ یہ کانگریس کی فطرت ہے۔ مودی سے نفرت میں اس نے تمام حدیں پار کردیں اور اب ملک کو نشانہ بنانے لگی ہے۔ پاترا نے کانگریس صدر راہول گاندھی سے مطالبہ کیا کہ وہ تھرور کے ریمارکس کی وضاحت کریں اور معافی مانگیں۔ کانگریس‘ پاکستان کی تشکیل کے لئے ذمہ دار ہے کیونکہ اسے اقتدار چاہئے تھا۔ کانگریس ذرائع نے کہا کہ تھرور سے کہا گیا ہے کہ وہ احتیاط برتیں۔پی ٹی آئی کے بموجب کانگریس قائد ششی تھرور نے یہ ریمارک کرکے بڑا تنازعہ پیدا کردیا کہ بی جے پی کو دوبارہ برسراقتدار لایا گیا تو وہ دستور ِ ہند کو پھر سے لکھے گی اور ہندو پاکستان بنانے کی راہ ہموار کرے گی۔ ان کے اس ریمارک پر کانگریس صدر راہول گاندھی سے معافی کا مطالبہ کیا گیا۔ ششی تھرور نے ترواننتاپورم میں کل ایک تقریب میں کہا تھا کہ ہندو راشٹر میں اقلیتوں کو مساوی درجہ نہیں ملے گا۔ ہندوپاکستان وجود میں آئے گا۔ یہ وہ چیز ہے جس کے لئے مہاتما گاندھی‘ نہرو‘ سردار پٹیل ‘ مولانا آزاد اور جدوجہد آزادی کے دیگر ہیروز نے لڑائی نہیں لڑی تھی۔ کانگریس نے اپنے رکن پارلیمنٹ کے ریمارکس کو ناپسند کیا ۔ اس نے اپنے قائدین سے کہا کہ وہ بھگوا جماعت کی ’’نفرت‘‘ کو مسترد کرتے وقت الفاظ کا انتخاب سوچ سمجھ کر کریں۔

جواب چھوڑیں