مکہ اعلامیہ میں افغان بحران کا اسلامی اقدار پر مبنی حل :شاہ سلمان

سعودی عرب کے شہر جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے زیر اہتمام افغانستان میں امن واستحکام کے موضوع پر منعقدہ علماء کی بین الاقوامی کانفرنس کے شرکاء نے افغان علماء پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے ملک میں متحارب فریقوں کے درمیان جاری موجودہ تنازع کا کوئی حل تلاش کریں تاکہ ملک میں امن واستحکام لایا جا سکے اور وہ افغان عوام میں اختلافات کے بیج بونے والی جماعتوں کے مقابلے میں افغان حکومت کا ساتھ دیں۔کانفرنس میں شریک اسلامی اسکالروں اور علماء کے ایک وفد نے جدہ میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے بھی ملاقات کی ہے۔ خادم الحرمین الشریفین نے ان کا خیرمقدم کیا اور کانفرنس کے انعقاد پر او آئی سی کو سراہا۔ اسی سلسلہ میں اب سعودی عرب کے شہر جدہ میں ہونے والی علما کانفرنس کے اختتام پر ’مکہ اعلامیہ‘ جاری کیا گیا ہے جس میں افغانستان میں فریقین سے جنگ بندی کر کے براہ راست امن مذاکرات شروع کرنے کو کہا گیا ہے۔شہزادہ خالد الفیصل نے اس کانفرنس کی سربراہی کی۔ کانفرنس کے اختتام پر او آئی سی کے سربراہ یوسف بن احمد العثیمین کا کہنا تھا کہ یہ اعلامیہ افغانستان میں جاری بحران کے پر امن حل کا شرعی حل پیش کرتا ہے۔بی بی سی کے مطابق اس اعلامیہ میں افغانستان میں موجود گروہوں سے جنگ بندی کر کے تشدد، تفرقے اور بغاوت کے خاتمے کے لیے اسلامی اقدار پر مبنی براہ راست امن مذاکرات شروع کرنے کو کہا گیا ہے۔اعلامیہ میں کہا گیا’ ’ہم افغان حکومت اور طالبان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایک معاہدہ کریں اور مذاکرات کا اغاز کریں‘‘۔شاہ سلمان افغانستان میں قیام امن کے لیے سعودی عرب اور او آئی سی کے اقدام سے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے افغانستان میں سلامتی اور استحکام کا نیا باب کھلے گا۔۔شاہ سلمان نے کہا کہ ’’سعودی عرب افغان عوام کو ان کے بحرانوں اور پھر اس کے نتیجے میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے انسانی اور مالی امداد مہیا کر رہا ہے اور وہ افغان عوام کے مختلف دھڑوں کے درمیان اختلافات اور تقسیم کے خاتمے کے لیے مسلسل مربوط سیاسی کوششیں بھی کر رہا ہے‘‘۔انھوں نے کہا:’’آج ہمیں امید ہے کہ آپ ( علماء ) کی کوششوں کے نتیجے میں افغانستان میں ماضی کا صفحہ بند کرنے اور ایک نیا صفحہ کھولنے میں مدد ملے گی۔ اس سے افغان عوام کی ملک میں سلامتی اور استحکام کے لیے امنگوں کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔اس کے لیے ہمارے دینِ اسلام کی تعلیمات کے مطابق مکالمے ، مصالحت اور رواداری کی اقدار کو اپنانے کی ضرورت ہے‘‘۔ساحلی شہر جدہ میں منعقد ہونے والی کانفرنس کے پہلے سیشن کا عنوان ’’اسلام میں مصالحت، افغانستان میں امن واستحکام میں علماء کا کردار‘‘ تھا۔ اس کے منتظم شاہی دیوان کے مشیر اور مسجد الحرام کے امام اور خطیب ڈاکٹر صالح بن حمید تھے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں گذشتہ ماہ رمضان میں افغان علماء کے جاری کردہ ایک فتوے کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس میں افغانستان میں افغان حکومت کے خلاف جنگ کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔

جواب چھوڑیں