نواز شریف کی آج پاکستان واپسی

سابق وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے آج ایک جذباتی اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی علیل شریک حیات کو یہاں اللہ کی حفاظت میں چھوڑرہے ہیں اور یہ پرواہ کئے بغیرکہ‘ خواہ اُنہیں ’’ جیل کو لے جایاجائے یا تختہ دار پر لے جایاجائے‘‘ پاکستان واپس ہورہے ہیں ۔توقع ہے کہ شریف ‘ کل (13جولائی کو) پاکستان واپس ہوں گے۔ وہ لندن میں اپنی علیل اہلیہ کلثوم نواز کی دیکھ بھال کیلئے مقیم تھے۔ اے ون فیلڈ جائیداد کیس میں اُنہیں ایک انسداد رشوت ستانی عدالت نے دوروز قبل 11برس کی سزائے قید سنائی تھی۔ پنامہ پیپرس اسکینڈل کے بعد نواز شریف کو3رشوت ستانی مقدمات کا سامنا رہا ہے۔ نواز شریف نے کل یہاں اپنی دختر مریم نواز کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وہ چاہتے ہیں کہ اُن کی اہلیہ پھر ایک بار اپنی آنکھیں کھولیں ۔ اُنہوںنے پاکستانی قوم سے درخواست کی کہ وہ اُن کی اہلیہ کی عاجلانہ صحت یابی کیلئے دعا کریں۔ صدر پاکستان مسلم لیگ۔ نواز ‘ نواز شریف نے کہاکہ ’’ اپنے سامنے جیل کی کوٹھری دیکھنے کے باوجو‘‘ وہ واپس ہورہے ہیں۔ اُنہیں رنج اِس بات کہاہے کہ وہ اپنی شریک حیات کو یہاں چھوڑ جارہے ہیں جو وینٹی لیٹر پر ہیں۔ 68سالہ نواز شریف نے جو تین بار وزیر اعظم رہ چکے ہیں ‘ کہاکہ ’’ کورٹ کا احترام کرنے کے اپنے وعدہ کی تکمیل کیلئے میں‘ واپس ہورہا ہوں۔ اب وہ رکنے والے نہیں ہیں خواہ اُنہیں جیل لے جایاجائے یا پھانسی دینے کیلئے لے جایاجائے‘‘۔ نواز شریف کو لندن میں 4لکژری فلیٹس خریدنے کے اُن کے خاندان کے اقدام اور اِس اقدام سے مربوط رشوت ستانی پر 11سال کی سزائے قید سنائی گئی ہے۔ پاکستان میں 25جولائی کو عام انتخابات منعقد ہونے والے ہیں۔ مذکورہ سزاء ‘ عام انتخابات سے قبل پاکستان مسلم لیگ نواز کیلئے ایک بڑا دھکہ ہے۔ عدالت احتساب میں شریف خاندان کو اب رشوت ستانی کے مزید دو مقدمات العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپس انوسٹمنٹس کیسس کا سامنا ہے۔ اِن مقدمات میں شریف خاندان پر اخفائے دولت ‘ ٹیکس چوری اور سمندر پار اثاثہ جات کے اخفاء کا الزام ہے۔ اے ون فیلڈ کیس فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے شریف نے کہاہے کہ فیصلہ میں یہ لکھا گیا ہے کہ اُنہیں رشوت ستانی کے الزامات سے بری کیا گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ’’ فیصلہ میں یہ لکھنا پڑا کہ میرے خلاف رشوت ستانی کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا۔ کیا ایسا کوئی پاکستانی ہے جس کی تین نسلوں کو اِس قسم کی جوابدہی کا سامنا کرنا پڑا ہے؟‘‘۔ سابق وزیر اعظم پاکستان نے مزید کہاکہ پاکستانی عوام نے ایک بار پھر انصاف کا ’’ اصلی چہرہ دیکھ لیا ہے‘‘۔ ’’ کئی ممالک میں تلاش کے بعد فیصلہ میں لکھنا پڑا کہ میرے خلاف رشوت ستانی کا کوئی ثبوت نہیں ہے‘‘۔

جواب چھوڑیں