نیٹو رکن ممالک کادفاعی اخراجات پر2 فیصد رقم مختص کرنے سے اتفاق

مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے رکن ممالک اپنے اس ہدف پر قائم ہیں کہ 2024تک وہ اپنی اپنی سالانہ مجموعی قومی پیداوار کا دو فیصد حصہ دفاع پر خرچ کریں گے۔ یہ اتفاق رائے برسلز میں جاری اس تنظیم کی دو روزہ سمٹ میں ہوا، جو آج جمعرات کو ختم ہو رہی ہے۔ سمٹ میں شریک سربراہان مملکت و حکومت نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ سابق یوگوسلاویہ کی ریاست مقدونیہ کو نیٹو کی رکنیت کے لیے مذاکرات کی دعوت دی جائے گی۔ کانفرنس کے پہلے روز امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے برلن حکومت پر اس وجہ سے تنقید بھی کی گئی کہ جرمنی روسی تیل اور گیس کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ چانسلر میرکل نے اس تنقید کو رد کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی اپنی سیاست میں آزاد ہے اور اپنے فیصلے خود کرتا ہے۔علحدہ موصولہ اطلاع کے بموجب نیٹو’ کے سربراہ جینز اسٹالٹن برگ کا کہنا ہے کہ اجلاس کے ایجنڈہ میں سرِ فہرست نیٹو ممالک کو 2024ء تک افغانستان کی سکیورٹی فورسز کی مالی امداد جاری رکھنے پر آمادہ کرنا ہے۔مغربی ملکوں کے دفاعی اتحاد ‘نیٹو’ کے رکن ملکوں کے سربراہان جمعرات کو اپنے اجلاس کے دوسرے روز افغانستان کی صورتِ حال پر غور کر رہے ہیں۔نیٹو رکن ممالک کے سربراہان کا دو روزہ سالانہ اجلاس کل بروسلز میں تنظیم کے نئے صدر دفتر میں شروع ہوا تھا جس میں تنظیم کے 29 رکن ملکوں کے سربراہان اور اعلیٰ حکام شریک ہیں۔دوسرے روز کے اجلاس میں نیٹو کے بعض اتحادی ملکوں کے سربراہان بھی شریک ہوں گے جن میں افغانستان کے صدر اشرف غنی اور یوکرائن کے صدر پیترو پوروشینکو بھی شامل ہیں۔’نیٹو’ کے سربراہ جینز اسٹالٹن برگ کا کہنا ہے کہ اجلاس کے ایجنڈے میں سرِ فہرست نیٹو ممالک کو 2024ئ￿ تک افغانستان کی سکیورٹی فورسز کی مالی امداد جاری رکھنے پر آمادہ کرنا ہے۔فی الحال نیٹو ہر سال افغان فورسز پر لگ بھگ ایک ارب ڈالر خرچ کر رہا ہے اور نیٹو سربراہ نے کہا ہے کہ ان کی خواہش ہے کہ آئندہ چند برسوں کے دوران فنڈنگ کی یہ سطح برقرار رکھی جائے۔اجلاس کے پہلے روز صدر ٹرمپ نے امریکہ کے روایتی حلیف ملکوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ان پر امریکہ کو لوٹنے کا الزام لگایا۔اجلاس کے پہلے روز صدر ٹرمپ نے امریکہ کے روایتی حلیف ملکوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ان پر امریکہ کو لوٹنے کا الزام لگایا۔افغانستان پر ہونے والے نیٹو کے اس سربراہی اجلاس سے ایک روز قبل برطانیہ نے افغانستان میں تعینات نیٹو کے تربیتی مشن کے لیے مزید فوجی دستے بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔کل بروسلز میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے برطانوی وزیرِ اعظم تھریسا مے نے کہا تھا کہ افغانستان میں نیٹو کے مشن کے لیے برطانیہ مزید 440 فوجی اہلکار بھیجے گا۔تھریسا مے نے کہا تھا کہ ان کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ نیٹو جب بھی پکارے گا، برطانیہ سب سے پہلے اس پکار کا جواب دینے والوں میں ہوگا۔جمعرات کے اجلاس میں نیٹو رہنما اتحاد کے رکن بننے کے خواہش مند یوکرائن اور جارجیا کے ساتھ نیٹو کے تعلقات کے مستقبل پر بھی بات کریں گے۔یوکرائن اور جارجیا کی فوجیں افغانستان میں نیٹو مشن کا حصہ رہی ہیں لیکن اتحاد میں ان کی شمولیت روس کی جانب سے ان دونوں ملکوں کی حدود میں مداخلت کے باعث کھٹائی میں پڑچکی ہے۔’نیٹو’ کے قوانین کے مطابق کوئی بھی ایسا ملک اتحاد کا رکن نہیں بن سکتا جس کے کسی دوسرے ملک کے ساتھ سرحدی تنازعات ہوں یا کسی علاقے کے ملکیت پر کوئی جھگڑا چل رہا ہو۔سربراہی اجلاس کے شرکا نیٹو کے نئے صدر دفتر کے باہر اجلاس سے قبل گروپ فوٹو کھنچوانے کے لیے کھڑے ہیں۔سربراہی اجلاس کے شرکا نیٹو کے نئے صدر دفتر کے باہر اجلاس سے قبل گروپ فوٹو کھنچوانے کے لیے کھڑے ہیں۔نیٹو کے سربراہی اجلاس نے بدھ کو اتحاد میں شمولیت کے لیے مقدونیہ کو مذاکرات شروع کرنے کی باضابطہ دعوت دینے کی منظوری بھی دی تھی جو بات چیت کامیاب ہونے کی صورت میں اتحاد کا 30 واں رکن ہوگا۔اس سے قبل کل نیٹو کے سربراہ اجلاس کا پہلا دن صدر ٹرمپ کی جانب سے نیٹو ممالک سے اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کے مطالبات اور امریکہ کے اتحادی ملکوں پر ان کی تنقید کی نذر ہوگیا تھا۔

جواب چھوڑیں