ہندوستان نے بنگلہ دیش کے دباؤ پر میرا ویزا منسوخ کیا

برطانوی رکن پارلیمنٹ لارڈ الکزینڈر چارلی نے جو جیل میں بند سابق وزیراعظم بنگلہ دیش بیگم خالدہ ضیاء کے قانونی مشیر ہیں‘ آج کہا کہ انہیں ہندوستان میں حکومت بنگلہ دیش کے دباؤ پر داخل ہونے نہیں دیا گیا۔ چارلی نے برطانیہ سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ اخباری نمائندوں سے کہا کہ ہندوستانی حکام نے میرا ویزا منسوخ کرنے کی حقیقی وجہ نہیں بتائی۔ چارلی نے کہا کہ وزارت ِ خارجہ ہند نے جو کہا ہے وہ غیردرست اور جھوٹ ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ انہیں ہندوستان میں داخل ہونے سے روکنے حکومت بنگلہ دیش نے ناقابل برداشت سیاسی دباؤ ڈالا۔ حکومت بنگلہ دیش نے ڈھاکہ میں کارگذار ہندوستانی ہائی کمشنر کو طلب کیا اور اس سے کہا کہ وہ اپنی حکومت سے کہہ کر میرا داخلہ رکوائے۔حکومت ہند نے ایسا ہی کیا ۔ اسے برطانوی دارالامرا (ہاؤس آف لارڈس) کے ایک رکن کو داخلہ نہ دینے پر شرم آنی چاہئے۔ وزارت ِ خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہا تھا کہ برطانوی شہری کل رات باقاعدہ ہندوستانی ویزا کے بغیر نئی دہلی کے اندراگاندھی انٹرنیشنل ایرپورٹ پہنچے تھے۔ وہ ملک میں کچھ ایسا کرنا چاہتے تھے جو اُن کے دورہ کے مقصد سے میل نہیں کھاتا تھا لہٰذا انہیں لینڈنگ کے فوری بعد لوٹادیا گیا۔ وزارت ِ خارجہ کے اس بیان کو خارج کرتے ہوئے لارڈ چارلی نے کہا کہ ان کے پاس کئی دن قبل جاری حکومت ہند کا بزنس ای ویزا تھا۔ میں نے اپنی ویزا درخواست میں بتادیا تھا کہ میں بحیثیت وکیل اور بحیثیت صدرنشین برطانوی کامن ویلتھ رائٹس انیشیئٹیو ہندوستان آرہا ہوں۔ حکومت ہند کو اچھی طرح معلوم تھا کہ میں کیوں آرہا ہوں۔ میں دہلی 2 وجوہات سے آرہا تھا۔ ایک وجہ یہ تھی کہ میں بیگم خالدہ ضیاء کی قانونی ٹیم کو لیڈ کرنے والے وکیل کی حیثیت سے پریس کانفرنس کروں اور دوسری وجہ کامن ویلتھ ادارہ کے ساتھیوں سے ملوں ۔ لندن کے ہیتھرو ایرپورٹ سے جب میں ہندوستان کا سفر شروع کیا تھا تو میرا ویزا 2 مرتبہ آٹومیٹک سسٹم سے اچھی طرح چیک کیا گیا۔ جب میں نے دہلی میں لینڈنگ کی اور اپنا موبائل فون آن کیا تھا مجھے جانکاری ملی کہ میرا ویزا منسوخ ہوچکا ہے ۔دہلی ایرپورٹ کے عہدیداروں نے میرے ساتھ نرمی کا برتاؤ کیا اور دوسری پرواز سے برطانیہ لوٹنے میں میری مدد کی لیکن ہندوستانی حکام نے میرا ویزا منسوخ کرنے کی حقیقی وجہ نہیں بتائی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت بنگلہ دیش نے انہیں ہندوستان میں داخل ہونے نہیں دیا کیونکہ وہ بیگم خالدہ ضیاء کے وکیل ہیں۔ لارڈ چارلی نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیراعظم بنگلہ دیش کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے۔ بیگم خالدہ ضیاء کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی(بی این پی) کا دعویٰ ہے کہ تمام کیسس سیاسی محرکہ ہیں تاکہ دسمبر میں ہونے والے انتخابات سے بیگم خالدہ ضیاء کو دور رکھا جائے۔ یو این آئی کے بموجب ہندوستان نے چہارشنبہ کے دن برطانوی شہری اور وکیل لارڈ الیکزنڈر چارلی کو ہندوستان میں داخلہ سے انکار کردیا۔ چارلی‘ سابق وزیراعظم بنگلہ دیش بیگم خالدہ ضیا کے وکیل ہیں۔ انہیں اس بنیاد پر انٹری نہیں دی گئی کہ ان کے پاس ویزا نہیں ہے اور ان کا ارادہ ان کے دورہ کے مقصد سے میل نہیں کھاتا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کے دن نئی دہلی میں بتایا کہ برطانوی شہری لارڈ الیکزنڈر چارلی 11 جولائی کو ہندوستانی ویزا حاصل کئے بغیر نئی دہلی پہنچے۔ ان کا ارادہ ان کے دورہ کے مقصد سے میل نہیں کھاتا جس کا انہوں نے اپنی درخواست ویزا میں ذکر کیا ہے۔ بنگلہ دیش کے آزاد مبصرین کا خیال ہے کہ چارلی ‘ انتہاپسند گروپ جماعت اسلامی سے روابط کے لئے جانے جاتے ہیں۔

جواب چھوڑیں