اے پی کا ایک لاکھ 94کروڑ مالیتی کریڈٹ پلان جاری

آندھراپردیش کے چیف منسٹر این چندرابابونائیڈو نے آج 203 ویں ریاستی سطح کے بینکرس اجلاس میں سال 2018-19 کے لئے 1,94,220 کروڑ مالیتی سالانہ کریڈٹ پلان جاری کیا ہے۔ اس سالانہ کریڈٹ پلان میں ترجیحی شعبہ کے لئے 1,44,220 کروڑ، غیرترجیحی شعبہ کے لئے 50ہزار کروڑ، بھاری صنعتوں کے لئے 10,457 کروڑ، ایم ایس ایم ای کے لئے 3,745کروڑ، مائیکروانٹرپرینرس کے لئے 14,028کروڑ، اسمال انٹرپرینرس کے لئے 11,500کروڑ، میڈیم انٹرپرینرس کے لئے 2,733کروڑ، اور ایم ایس ایم ای قرضوں کے لئے 28,261کروڑ روپئے شامل کئے گئے ہیں۔ اگریکلچرل کریڈٹ پلان کے تحت 1,01,564 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں ۔ جن میںمختصر مدتی قرض کے لئے 75,000 کروڑ، قولدارکسانوں کی مدد کے لئے 75,000 کروڑ، زراعت اور اس سے مربوط قرض کے لئے 21,323کروڑ، اگریکلچرل انفراسٹرکچر کے لئے 241 کروڑ روپئے شامل کئے گئے ہیں اور اس شعبہ سے مربوط پروگراموں کے لئے 5ہزار کروڑ روپئے رکھے گئے ہیں۔ اس موقع پر بینکرس سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر چندرابابونائیڈو نے کہا کہ بینکرس کو چاہئیے کہ وہ ترجیحی شعبہ جات کیلئے قرض کی فراہمی کیلئے آگے آئیں۔ نائیڈو نے کہا کہ چند بینکوں کی ’’غیرموثر‘‘ کارکردگی سے انہیں مایوسی ہوئی ہے۔ انہوں نے اس امر پر تاسف کا اظہارکیا کہ نوٹ بندی کے بعد سے عوام کو بینک شعبہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔ عوام ،چند تحفظات کے سبب بینکوں میں رقم جمع کرانے سے گریز کررہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بینکوں میں نقدی کی قلت کے سبب حکومت کومنریگا کے تحت اجرتوں کی تقسیم میں مشکلات کا سامنا ہے۔

جواب چھوڑیں