بریگزٹ منصوبہ سے امریکی تجارتی معاملت کو دھکا

صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے وزیراعظم برطانیہ تھریسامے کی بریگزٹ حکمت عملی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے باہمی تجارت کے امکانات کو شدید دھکا پہنچے گا اور ملک کے کئی ارکان پارلیمنٹ اور سیاستدانوں کی جانب سے اس حکمت عملی پرٹرمپ کے ریمارکس پر شدید تنقیدیں شروع کردی جائیں گی۔ صدر امریکہ نے کہا کہ وہ اس کو پسند نہیں کریں گے جس پر برطانیہ کے ارکان پارلیمنٹ نے ناراضگی کا اظہار کیا اور انہوں نے ملک کیلئے نامناسب قرار دیتے ہوئے اس کو توہین قرار دیا ہے۔ صدر امریکہ نے روپرٹ مورڈوچ کی ملکیت روزنامہ سن کو انٹرویو دیتے ہوئے مذکورہ حکمت عملی پر ناپسندگی کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سے تنازعہ پیدا ہوگیا ہے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے دو کابینی وزراء کی جانب سے کئے گئے دستخط کا تذکرہ کیا اور کہا کہ بریگزٹ منسٹر ڈیوڈ ڈیوس اور فارن سکریٹری بورس جانسن نے مذکورہ معاہدہ پر عدم تشفی کا اظہار کیا ہے۔ صدر امریکہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم برطانیہ تھریسامے کی جانب سے جو منصوبے بنائے جارہے ہیں وہ اطمینان بخش نہیں ہیں۔ سیاسی بصیرت سے آری منصوبوں سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا جبکہ یوروپی یونین کے ساتھ تعلقات کو استوار کرنے کیلئے اس طرح کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا ہے کہ برطانیہ نے 28ارکان پر مشتمل معاشی بلاگ سے گذشتہ علیحدگی اختیار کرلی جس کے بعد سے بریگزٹ کے حامی اس کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ صدر امریکہ نے مذکورہ اخبار کے نمائندہ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ اور منصوبہ تشفی بخش ثابت نہیں ہوگا اور اس کے نتائج سود مند نہیں ہوں گے بلکہ اس کے مضر اثرات پڑیں گے۔ صدر امریکہ نے کہا کہ انہوں نے تھریسامے سے کہا تھا کہ وہ بریگزٹ معاملت سے کس طرح سے نمٹیں گی لیکن انہوں نے اس طرف توجہ نہیں دی۔ انہوں نے میرے مشورہ کو قبول نہیں کیا اور اس سے اتفاق کرنے پر راضی نہیں ہوئیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تھریسامے دوسرا راستہ اختیار کرنا چاہتی ہیں۔ صدر امریکہ جو کہ سرکاری پہلے دورہ پر یہاں آئے ہوئے ہیں ان تاثرات اور احساسات کا اظہار کیا۔ ٹرمپ کی جانب سے جن تاثرات اور احساسات کا اظہار کیا گیا ہے اس پر برطانیہ کے ارکان پارلیمنٹ نے شدید تنقید کی۔ کئی ا رکان نے اس کو وزیراعظم کی اہانت کے علاوہ برطانیہ کے عوام کی توہین قرار دیا۔ قدامت پسند پارٹی کے ایم پی سارا والسٹن نے کہا کہ صدر امریکہ‘ وزیراعظم برطانیہ کی توہین کرنے کے خواہاں ہیں اور وہ اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے اس طرح کے ریمارکس کر رہے ہیں۔ کئی ارکان پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ صدر امریکہ کو چاہیئے کہ وہ حقائق کا جائزہ لیں لیکن وہ اپنے موقف پر اٹل رہتے ہوئے ایسا طریقہ کار اختیار کر رہے ہیں جس سے کہ برطانیہ کی عوام کی اہانت ہورہی ہے۔ یہ بات اپوزیشن لیبر پارٹی کے ایم پی بن براڈ شاہ نے بتائی۔

جواب چھوڑیں