جموں وکشمیر پر زید رعدالحسین کی رپورٹ کی تائید

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گیٹریس نے جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کی بین الاقوامی تحقیقات کے لئے انسانی حقوق ہائی کمشنر زیدرعدالحسین کی اپیل کی حمایت کی ہے اور کہا کہ یہ ’’اقوام متحدہ کی آواز‘‘ کی نمائندگی کرتی ہے۔ گیٹریس نے جمعرات کو ایک نیوز کانفرنس میں مسلح تصادم میں بچوں پر خود اپنی رپورٹ کا دفاع کیا جس میں جموں و کشمیر‘ چھتیس گڑھ اور جھارکھنڈ کی صورتحال کا حوالہ دیا گیا ہے۔ انہو ںنے ہندوستان ک ان بیانات کو مسترد کردیا ہے کہ ان کی رپورٹ ان کے دائرہ اختیار سے تجاوز کرتی ہے اور زید کو اس کا کوئی اختیار نہیں تھا۔ گیٹریس نے کہا کہ وہ دونوں انسانی حقوق دستاویزات کے عمومی اختیار سے استفادہ کرتے ہیں۔ پیر کے روز ہندوستان کے نائب مستقل نمائندہ تنمیالال سلامتی کونسل کو بتایا تھا کہ زید کی ’’نام نہاد رپورٹ‘‘ سے ایک عہدیدار کی کھلی جانبداری ظاہر ہورہی تھی جو کسی اختیار کے بغیر کام کررہے تھے اور انہوںنے معلومات کے غیرمعتبر ذرائع پر انحصار کیا تھا ۔لال نے گیٹریس کی رپورٹ کے بارے میں کہا تھا کہ ہمیں اس بات پر مایوسی ہوئی ہے کہ سکریٹری جنرل کی رپورٹ میں اُس صورتحال کا تذکرہ ہے جو مسلح تصادم کی تعریف میں شامل نہیں ہے یا بین الاقوامی امن و سلامتی کی برقراری کے لئے خطرہ نہیں ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران اس سوال پر کہ آیا وہ آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات کے لئے زید کی اپیل کی حمایت کرتے ہیں ‘ گیٹریس نے کہا کہ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ انسانی حقوق ہائی کمشنر کے تمام اقدامات کسی مسئلہ پر اقوام متحدہ کی آواز کی نمائندگی کرنے والے اقدامات ہوتے ہیں۔ ہندوستان کے اس دیرینہ موقف جس میں کہا گیا ہے کہ جموں وکشمیر ‘ ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور پڑوسیوں کے درمیان کوئی بھی مسئلہ ہند۔ پاک کے درمیان باہمی مسئلہ ہے‘ کے خلاف جاری رپورٹس کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے گیٹریس نے کہا کہ سیاسی معاملات اور انسانی حقوق کے درمیان فرق ہوتا ہے۔

جواب چھوڑیں