ذاکر نائک کی حوالگی کا انفرادی فیصلہ ممکن نہیں:ملایشیائی وزرا

ایک طرف جہاں ہندوستان نے متنازعہ اسلامی مبلغ ذاکر نائک کو ہندوستان واپس لانے کی اپنی کوشش جاری رکھی ہے وہیں ملایشیائی دارالحکومت میں یہ خبریں گردش کررہی ہیں کہ بعض وزیروں نے کابینی میٹنگ میں اس معاملہ کو اٹھایا ہے اور یہ اصرار کیا ہے کہ کوئی بھی انفرادی طور پر یہ فیصلہ نہیں کرسکتا کہ انہیں ملک بدر کیا جائے یا نہیں۔ ملایشیائی انسانی وسائل کے وزیرایم کلزیگران نے کہا ہے کہ ایسے معاملات میں ملکی قوانین کے مطابق قدم اٹھایا جائے۔ کوئی انفرادی شخص یا حکومت یہ طے نہیں کرسکتی کہ ذاکر نائک کو جو انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کو مطلوب ہیں، ہندوستان کے حوالے کیا جائے یا نہیں۔ مقامی میڈیا نے وزیرموصوف کے حوالہ سے خبر دی ہے کہ ’’اہم بات یہ ہے کہ حکومت ہند (نائک کی واپسی کی) درخواست کرے۔‘‘ گووند سنگ دیو اور زیویر جے کمار نامی دیگر 2 وزیروں نے بھی کابینی میٹنگ میں اس معاملہ کو اٹھایا تھا۔ یہ میٹنگ چہارشنبہ کو ہوئی تھی۔ کلزیگراں نے یہ بھی کہا ہے کہ ’’میں ملایشیائی لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ جب بھی ہندوستان کا دورہ ہوگا میں وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کرکے ان سے بھی اس بابت بات کروں گا۔‘‘ملایشیائی وزیر کے اس بیان سے چند گھنٹوں قبل دہلی میں وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہا تھا کہ نائک کی حوالگی کی ہندوستان کی درخواست ملایشیائی حکام کے پاس زیر غور ہے۔چند روز قبل ملایشیائی وزیراعظم مہاتر محمد نے نائک کی حوالگی کی ہندوستان کی درخواست دو ٹوک مسترد کردی تھی اور کہا تھا کہ جب تک وہ ملایشیا میں قانون کی خلاف ورزی نہیں کرتے انہیں ملک بدر نہیں کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق ملایشیائی حکومت اپنے اٹارنی جنرل سے کہہ سکتی ہے کہ وہ ہندوستان کی درخواست کا جائزہ لیں۔ نائک پر الزام ہے کہ ان کی نفرت انگیز تقریر سے متاثر ہوکر بنگلہ دیشی نوجوانوںنے 2016 میں ڈھاکہ میں پرتشدد غیر سماجی قدم اٹھایا تھا۔ وہ ناجائز رقم کو جائز بنانے، نفرت انگیز تقریریں کرنے اور دہشت گردی کی تائید کرنے کے الزام میں ہندوستانی حکام کو مطلوب ہیں۔

جواب چھوڑیں