سوشل میڈیا پر نظررکھنے مرکزی حکومت کا منصوبہ۔ سپریم کورٹ کا اعتراض

سپریم کورٹ نے آج آن لائن ڈاٹا پر نظر رکھنے ایک سوشل میڈیا ہب (مرکز) قائم کرنے وزارت ِ اطلاعات و نشریات کے فیصلہ کا سخت نوٹ لیا اور کہا کہ یہ زیرنگرانی مملکت تخلیق کرنے کے مماثل ہوگا۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ حکومت شہریوں کے واٹس ایپ میسیجس پر نظر رکھنا چاہتی ہے اور اندرون 2ہفتے جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ۔ چیف جسٹس دیپک مشرا ‘ جسٹس اے ایم کھنولکر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ پر مشتمل بنچ نے ترنمول کانگریس کے رکن اسمبلی مہوا موئترا کی درخواست پر مرکز کو نوٹس جاری کی اور اس معاملہ میں اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال سے مدد چاہی۔ بنچ نے کہا کہ حکومت ‘ شہریوں کے واٹس ایپ میسیجس پر نظر رکھنا چاہتی ہے۔ یہ زیرنگرانی مملکت تخلیق کرنے کے مماثل ہوگا۔ سینئر ایڈوکیٹ اے ایم سنگھوی نے موئترا کی طرف سے پیروی کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اس تجویز کے لئے درخواست جاری کی ہے اور 20 اگست کو ٹنڈر کی کشادگی عمل میں آئے گی۔ وہ اس سوشل میڈیا ہب کے ذریعہ سوشل میڈیا کے مواد پر نظر رکھناچاہتے ہیں۔ بنچ نے کہا کہ وہ اس معاملہ کی مزید سماعت 20 اگست کو ٹنڈر کی کشادگی سے قبل 3 اگست کو مقرر کررہی ہے اور اٹارنی جنرل یا کوئی بھی لا آفیسر اس معاملہ میں عدالت کی مدد کرسکتے ہیں۔ قبل ازیں 18 جون کو سپریم کورٹ نے ایک درخواست کی ہنگامی سماعت کرنے سے انکار کردیا تھا جس میں مرکزی حکومت کی جانب سے ’’سوشل میڈیا کمیونیکیشن ہب ‘‘ قائم کرنے کی تجویز پر حکم التوا جاری کرنے کی گذارش کی گئی تھی۔ یہ مرکز ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کے مواد کو اکٹھا کرنے اور اس کا تجزیہ کرنے کے مقصد سے قائم کیا جانے والا تھا۔ موئترا کے وکیل نے اُس وقت کہا تھا کہ حکومت لوگوںکے سوشل میڈیا جیسے ٹویٹر‘ فیس بک اورانسٹاگرام پر ان کے اکاؤنٹس اور ان کے ای میل پیامات کو ٹریک کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر نظر رکھنے کی کوشش کررہی ہے۔ وزارت کے تحت عوامی شعبہ کے ایک یونٹ براڈکاسٹ انجینئرنگ کنسلٹنٹس انڈیا لمیٹڈ نے حال ہی میں اس پراجکٹ کے لئے سافٹ ویر فراہم کرنے ایک ٹنڈر جاری کیا ہے۔

جواب چھوڑیں