عسکریت پسندی کی تجدید کا خطرہ ، محبوبہ کے بیان پر عمر عبداللہ کی تنقید

 سابق چیف منسٹر محبوبہ مفتی نے مرکز کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر پی ڈی پی ٹوٹ جاتی ہے تب عسکریت پسندی دوبارہ سر ابھار سکتی ہے۔ ان کے اس بیان پر تنقید کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے وی پی عمر عبداللہ نے کہا کہ خود ان کے انتہائی اہل انتظامیہ کے تحت پہلے سے ہی عسکریت پسندی نے دوبارہ جنم لیا ہے۔ عبداللہ جو ریاست کے سابق چیف منسٹر رہ چکے ہیں ،اسمبلی کی تحلیل کا مطالبہ کیا ، تاکہ بی جے پی کی جانب سے ارکان کی سودے بازی سے متعلق قیاس آرائیوں کو ختم کیا جاسکے۔ آج ڈاؤن ٹاؤن میں نقشبند صاحب کے مقبرہ کے پاس قبرستان پر 1931ء کے شہیدوں کو گلہائے عقیدت پیش کرنے کے بعد اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا نہ صرف الجھن بڑھ رہی ہے ، بلکہ سیاسی غیریقینی کیفیت میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا سودے بازی کو روکنا اور فوری طور پر اسمبلی کو تحلیل کردینا چاہیے۔ محبوبہ نے آج نئی دہلی کو اس کی پارٹی کو ریاست میں حکومت بنانے کے لیے پارٹی کو توڑنے کی کسی کوشش کے خلاف خبردار کیا تھا۔ انہوں نے کہا اگر نئی دہلی 1987ء کے واقعہ کا اعادہ کرنے کی کوشش کرے ، جس کی وجہ سے محمد یوسف شاہ اور محمد یٰسین ملک کا ظہور ہوا و نیز پارٹی کو توڑنے کی کوشش کرے تب اسے خطرناک نتائج و عواقب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

جواب چھوڑیں