عصمت ریزی کیس:شاہنواز حسین کے خلاف ایف آئی آرکے حکم پر روک

دہلی ہائی کورٹ نے آج ٹرائل عدالت کے ایک حکم پر روک لگادی جس میں دہلی پولیس کو یہ ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ایک خاتون کی عصمت ریزی کی شکایت پر بی جے پی لیڈر شاہنواز حسین کے خلاف ایف آئی آر درج کرے۔ جسٹس اے کے پاٹھک نے نوٹس جاری کی اور مبینہ متاثرہ خاتون اور پولیس سے حسین کی درخواست پر جواب طلب کیا جس کے ذریعہ ٹرائل کورٹ کے کل صادر کردہ احکام کو چیلنج کیا گیا ہے۔ دہلی کی ایک خاتون نے جنوری میں ٹرائل عدالت میں درخواست داخل کی تھی اور شاہنواز حسین کے خلاف اس کی عصمت ریزی کی شکایت پر ایف آئی آر کے اندراج کی ہدایت دینے کی گذارش کی تھی۔ ہائی کورٹ نے جو ابتدا میں ٹرائل عدالت کے حکم پر روک لگانے پر مائل نہیں تھی‘ بعدازاں کہا کہ ٹرائل عدالت کے 12 جولائی کے احکام پر آئندہ تاریخ سماعت یعنی 6 دسمبر تک حکم التوا جاری کیا جاتا ہے۔ مجسٹریٹ کی ایک عدالت نے 7 جولائی کو حسین کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ خاتون کی شکایت سے قابل دست اندازی جرم بنتا ہے۔ بی جے پی قائد نے اس درخواست کو سیشن عدالت میں چیلنج کیا تھا جس نے ان کی درخواست مسترد کردی تھی۔ حسین آج ہائی کورٹ سے رجوع ہوئے اور سیشن عدالت کے احکام پر حکم التوا جاری کرنے یا منسوخ کردینے کی گذارش کی تھی۔ سینئر ایڈوکیٹ سدھارتھ لتھرا ‘ حسین کی طرف سے پیش ہوئے اور بحث کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بالکلیہ احمقانہ کیس ہے لہٰذا حسین کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کے احکام کو منسوخ کیا جائے۔ انہو ںنے یہ بھی دلیل دی کہ اس خاتون اور حسین کے بھائی کے درمیان تنازعہ چل رہا ہے اور بی جے پی لیڈر کو اس میں گھسیٹا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں