محبوبہ کا علیحدگی پسندوں سے نزدیکی کا انکشاف

جموں و کشمیر کی سابق چیف منسٹر محبوبہ مفتی نے علیحدگی پسندوں کے ساتھ اپنی نزدیکی کا انکشاف کرتے ہوئے یہ انتباہ بھی دیا کہ اگر ان کی پیوپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) ٹوٹ جائے تو اس صورت میں ریاست میں مزید عسکریت پسند ابھریںگے۔ مرکزی مملکتی وزیر اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے کہا کہ مفتی اپنے بیان کے ذریعہ دہشت گردوں کو آکسیجن دینے کی کوشش کررہی ہیں۔ جانتے ہوئے یا نہ جانتے ہوئے انہوں نے علیحدگی پسندوں سے صرف اپنی نزدیکی کا انکشاف کیا ہے۔ سری نگر میں ایک پریس کانفرنس میں پی ڈی پی سربراہ نے کہا کہ اگر مرکزی حکومت ریاست میں نئی حکومت بنانے کے لیے ان کی پارٹی میں پھوٹ ڈالے تب اس صورت میں مزید صلاح الدین اور یٰسین ملک تخلیق ہوںگے ، جو 1987ء کے انتخابات میں رگنگ کے بعد ہتھیار ہاتھ میں لینے والوں میں پہلے تھے ۔ صلاح الدین جن کا حقیقی نام یوسف شاہ تھا ، انہوں نے الیکشن میں مقابلہ کیا تھا اور ملک ان کے پولنگ ایجنٹ تھے ، تاہم یہ الزام عائد کیا گیا کہ نیشنل کانفرنس ۔ کانگریس اتحاد کی تائید میں انتخابات میں رگنگ کی گئی ۔ شاہ ، حزب المجاہدین عسکریت پسند گروپ کی قیادت کرنے لگے اور ملک نے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کو لانچ کیا۔ مفتی کے بیان پر ردّ ِ عمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی کی مرکزی کمیٹی کے رکن جی وی ایل نرسمہا راؤ نے کہا مفتی کے ریمارکس عجیب و غریب ہیں، لگتا ہے کہ وہ اپنی ہی پارٹی کے دباؤ میں ہیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا وہ حزب المجاہدین کے ساتھ اپنی پارٹی کو مساوی کررہی ہیں۔ جموں و کشمیر کے سابق ڈپٹی چیف منسٹر اور ریاستی بی جے پی کے سینئر قائد کویندر گپتا نے کہا یہ بات بڑی بدبختانہ ہے کہ وہ (مفتی) چند دنوں قبل تک بطورِ چیف منسٹر حکمران رہیں اور اب وہ دہشت گردی ابھرنے کے بارے میں دھمکا رہی ہیں۔

جواب چھوڑیں