کشمیر میں 1931 کے شہیدوں کی یاد ۔ وادی میں بند

سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ اور اصل دھارے کی سیاسی پارٹیوں کے قائدین و نیز ڈیویژنل کمشنر کشمیر اور ڈائرکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی ) نے 1931ء کے 23 شہیدوں کو گلہائے عقیدت پیش کیے۔ ان جنگجوؤں کو سنٹرل جیل سری نگر کے باہر ڈو گرا پولیس نے ہلاک کیا تھا۔ گورنر این این ووہرہ نے جموں و کشمیر میں منائے گئے یومِ شہیداں کے موقع پر اپنے پیام میں کہا کہ جموں و کشمیر اپنے شاندار تکثیری اقدار اور بھائی چارہ سے مشہور رہا ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ ریاست کی عظمت ِ رفتہ کو بحال کرنے کی جانب اسے امن ، ہم آہنگی اور خوشحالی کا گہوارہ بنانے کے لیے کام کریں ، تاہم نیشنل کانفرنس (این سی) کے نائب صدر عمر عبداللہ نے نقشبند صاحب درگاہ کے پاس شہیدوں کے قبرستان پر انہیں خراج پیش کرنے گورنر کی عدمِ شرکت پر تنقید کی ۔ انہوں نے ٹوئٹر پر تحریر کیا ۔ گورنر ووہرہ کی عدمِ شرکت بدبختانہ ہے ۔ اس کے علاوہ ان کے کسی بھی مشیر نے شرکت نہیں کی ۔ ڈیویژنل کمشنر کی سطح کو گھٹایا گیا ہے ، جب کہ بالعموم چیف منسٹر فنکشن کی قیادت کرتے ہیں ۔ اس قبرستان کو جانے والی تمام سڑکوں کو مہربند کردیا گیا تھا اور صرف سیاست دانوں اور سرکاری عہدیداروں کو گلہائے عقیدت پیش کرنے کی اجازت تھی۔ سابق چیف منسٹر و صدر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) محبوبہ مفتی نے پارٹی لیجسلیٹرس اور بڑی تعداد میں قائدین کے ساتھ 1931ء کے شہیدوں کو گلہائے عقیدت پیش کیے ، تاہم رپورٹرس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر نئی دہلی (بی جے پی) حکومت ، ان کی پی ڈی پی پارٹی کو توڑنے اور ریاست میں حکومت بنانے کی کوشش کرے گی تب یہ انتہائی خطرناک ہوگا۔ یہ 1989ء جیسی صورتِ حال ہوگی ، جب کہ وادی میں عسکریت پسندی نے جنم لیا اور محمد یوسف شاہ اور محمد یٰسین ملک نے ریاست میں پچھلے ماہ تین سالہ مخلوط حکومت ، بی جے پی کی جانب سے اتحاد سے دستبردار ہونے کے بعد ٹوٹ گئی اور محبوبہ مفتی کو مستعفی ہونا پڑا۔ محبوبہ مفتی نے شہیدوں کو زبردست خراج پیش کرتے ہوئے ان کی قربانیوں کو جموں و کشمیر کی تاریخ میں ایک سنہری باب قرار دیا۔ انہوں نے کہا 1931ء کے ان جیالوں نے ریاست میں مساوات ، انصاف اور آزادی پر مبنی سسٹم کا سنگ ِ بنیاد رکھنے کے لیے اپنی جانوں کو قربان کردیا۔ ہر شہری کو ان قربانیوں کا احترام کرنا چاہیے اور ریاست کی پاسبانی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ان ہیروز کو خراج پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہوگا کہ جموں و کشمیر کو ایک متحمل سوسائٹی بنائیں اور اسے مذہب اور ذات پات کے امتیازات سے پاک رکھیں۔ 1931ء کے ان ہیروز کے جمہوری ، خوشحالی اور متحمل جموں و کشمیر کا خواب دیکھا تھا ، جس کے لیے انہوں نے اپنی جانیں بھی نچھاور کردیں۔ اب یہ ہماری ذمہ داری اور چیلنج ہے کہ ان تخیلات اور پاسبانی کو مستحکم کرتے ہوئے ریاست کو حقیقت میں ایک مثالی ریاست بنائیں۔ عمر عبداللہ نے ٹوئٹر پر تحریر کیا کہ اگر محبوبہ پی ڈی پی کے ٹوٹنے کی صورت میں عسکریت پسندی کے پھر سے ابھرنے کی بابت مرکز کو خطرہ سے آگاہ کررہی ہیں تو شاید وہ بھول گئی ہیں کہ ان کے انتہائی قابل نظم و نسق کے تحت ہی کشمیر میں عسکریت پسندی ابھری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی کے ٹوٹنے سے ایک بھی عسکریت پسند جنم نہیں لے گا۔ عوام دہلی میں تخلیق کردہ پارٹی جو کشمیر کے ووٹوں کی تقسیم کے لیے بنی ہے اس پارٹی کی موت پر سوگ نہیں منائیںگے۔ پردش کانگریس کمیٹی (پی سی سی) کے صدر غلام احمد میر اور اصل دھارے کے کئی قائدین نے بھی شہیدوں کو گلہائے عقیدت پیش کیے۔ عوامی اتحاد پارٹی (اے آئی پی) کے صدر و رکن اسمبلی ای آر شیخ عبدالراشد شہیدوں کو خراج پیش کرنے کے لیے خان یار سے قبرستان تک ایک جلوس کے ساتھ آئے۔ ڈیویژنل کمشنر بصیر احمد خان اور ڈائرکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) ڈاکٹر ایس پی وید نے بھی شہیدوں کو گلہائے عقیدت پیش کیے۔ اسی دوران سیکورٹی فورسس جنہوں نے بلیٹ پروف گاڑیاں پارک کی تھیں ، ڈاؤن ٹاؤن میں شہیدوں کے قبرستان جانے والی تمام سڑکوں کو بند کردیا تھا اور وسط میں خاردار تار لگائے تھے ، کیوںکہ علیحدگی پسندوں نے قبرستان پہنچنے کا اعلان کیا تھا ۔ صرف سیاست دانوں اور سیکورٹی فورسس کے عہدیداروں کو گذرنے کی اجازت دی گئی۔ آئی اے این ایس کے بموجب آج یومِ شہیداں کے موقع پر جموں و کشمیر میں عام تعطیل تھی ۔ تمام شاپس اور بزنس ادارے بند رہے ۔ وادی میں پبلک ٹرانسپورٹ کی بسیں سڑکوں سے غائب تھیں۔ سی پی آئی (ایم) کے اسٹیٹ سکریٹری غلام نبی ملک نے 13 جولائی 1931ء کے شہیدوں کو خراج پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس دن کو جمہوریت ، سماجی انصاف اور انسانی قدروں کی برقر اری کے لیے جموں و کشمیر کے عوام کی جدوجہد کے طور پر منایا جانا چاہیے ۔ ان کے انسانی حقوق کے تحفظ کی کوششیں ، جرأت ، قربانی اور اعلیٰ قدریں ہماری سیاسی و سماجی زندگی میں رہنما ہونی چاہیے۔

جواب چھوڑیں