اقلیتی لڑکیوں کو بااختیاربنانے جنگی خطوط پر مہم: نقوی

وزیراقلیتی امور مختارعباس نقوی نے آج کہا کہ ملک بھر کے 308اضلاع میں اقلیتی فرقوں کی لڑکیوں کو تعلیمی لحاظ سے بااختیاربنانے بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لئے جنگی خطوط پر ایک مہم شروع کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوششوں کا مقصد سبھی کی ترقی ہے۔ اسی کے ذریعہ اقلیتوں کو قومی دھارا میں لانا یقینی ہوا۔ نقوی کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں یہ بات بتائی گئی۔اقلیتی امور سے متعلق ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں کے پرنسپل سکریٹریز اور سکریٹریز انچارج کی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نقوی نے کہا کہ حکومت پسماندہ اور نظرانداز کردہ علاقوں میں پردھان منتری جن وکاس کاریہ کرم کے تحت اسکول، کالج ، پالی ٹیکنک، لڑکیوں کے ہاسٹل، آئی ٹی آئی، اور اسکل ڈیولپمنٹ سنٹرس قائم کررہی ہے۔ ایسی سہولتیں نہ ہونے کے باعث اقلیتوں بالخصوص مسلم لڑکیوں کی شرح خواندگی کم رہی۔ آزادی کے بعد پہلی مرتبہ 308اضلاع میں اقلیتی فرقوں کی لڑکیوں کو تعلیمی لحاظ سے بااختیاربنانے بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لئے جنگی خطوط پر ایک مہم شروع کی گئی۔ گذشتہ چار برس میں ملٹی سیکٹر ترقیاتی پروگرام کے تحت 16 ڈگری کالجس‘ 2019 اسکولی عمارتیں ‘37267 اضافی کلاس روم‘1141 ہاسٹل، 170 آئی ٹی آئی، 78پالی ٹیکنک، 38736 آنگن واڑی سنٹرس، حکومت نے تعمیر کرائے۔ نقوی نے کہا کہ پردھان منتری جن وکاس کاریہ کرم موثرثابت ہوا۔ اس کے تحت 80 فیصد وسائل ‘تعلیم صحت اور اسکل ڈیولپمنٹ کے تحت مختص کئے گئے۔ 33 تا34 فیصد وسائل خواتین پر مرکوز پراجکٹس کے لئے مختص ہوئے۔ نقوی نے کہا کہ گذشتہ چار برس میں اقلیتوں کے غریب اور پسماندہ 2کروڑ66لاکھ طلبہ کو مختلف اسکالرشپس سے فائدہ پہنچا۔ 5,43000 نوجوانوں کو روزگار اور روزگار کے مواقع اسکل ڈیولپمنٹ اسکیموں کے تحت فراہم ہوئے۔ کانفرنس میں وزارتِ اقلیتی امور کے عہدیداروں نے تفصیلی پریزنٹیشن دیا۔

جواب چھوڑیں