آیا کانگریس قائدین کو ترقیاتی کام دکھائی نہیں دیتے؟ ٹی آر ایس ارکان اسمبلی کا استفسار

چیف منسٹر تلنگانہ کے چندرشیکھر رائو اور ان کے افراد خاندان کے خلاف صدر پردیش کانگریس این اتم کمار ریڈی اور ان کی پارٹی کے دیگر قائدین کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی نے اپوزیشن جماعت کے قائدین پر زور دیا کہ وہ سوچ سمجھ کر بیانات دیں۔ عوام کی بہبود اور ریاست کی ترقی کیلئے دن رات محنت کرنے والے چیف منسٹر کے سی آر کے خلاف کانگریس قائدین کی الزام تراشیاں قابل مذمت ہیں۔ ٹی آر ایس اسمبلی وی ویریشم‘ پی شیکھر ریڈی اور بھاسکر رائو نے آج ٹی آر ایس لیجسلیچرس پارٹی دفتر میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس قائدین نے سابق میں علیحدہ تلنگانہ تحریک کی تائید کرنے کے بجائے وہ سیما آندھرا کے حکمرانوں کا آلہ کار بن کر اس تحریک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی۔ اب وہ ٹی آر ایس حکومت کی کارکردگی کو فضول بتاتے ہوئے ریاست کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے ضلع نلگنڈہ کی ترقی کیلئے کئی ترقیاتی اسکیمات کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ آیا کانگریس قائدین کو ترقیاتی کام دکھائی نہیں دے رہے ہیں؟انہوں نے کانگریس پر ملک کی سب سے بڑی بدعنوان جماعت کا الزام عائد کیا۔ سابق یو پی اے حکومت میں کئی اسکامس سامنے آئے تھے اس لئے سال 2014کے انتخابات میں عوام نے بدعنوان کانگریس سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے کو برسر اقتدار لایا۔ انہوں نے کہا کہ ضلع نلگنڈہ کے کانگریس قائدین کیلئے 2019کے اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات آخری ثابت ہوں گے۔ آئندہ انتخابات کے بعد تلنگانہ بالخصوص ضلع نلگنڈہ میں کانگریس کا صفایا ہوجائے گا۔ انہوں نے ٹی آر ایس پر خاندانی سیاسی جماعت کے الزام کو مسترد کردیا۔

جواب چھوڑیں