ایران کیخلاف تحدیدات‘ استثنیٰ کی یوروپی درخواست مسترد:پومپیو

امریکہ نے ایران کے خلاف پابندیوں پر یورپی یونین کے اعلی سطحی رہنماؤں کی جانب سے یورپی کمپنیوں کو استثنیٰ دیئے جانے کی اپیل کو مسترد کر دیا ہے۔یورپی یونین کے ممالک کے نام اپنے خط میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ امریکہ نے ان کی اپیل کو اس لیے مسترد کردیا کیونکہ وہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنا چاہتا ہے۔انھوں نے کہا کہ استثنی اسی صورت میں دی جا سکتی ہے جب ان سے امریکی قومی سلامتی کو فائدہ پہنچے۔یورپی یونین کو خدشہ ہے ایران کے خلاف واشنگٹن کی نئی پابندیوں کی صورت میں اربوں ڈالر کی تجارت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔این بی سی نیوز کے مطابق وزیر خزانہ کے بھی دستخط والے خط میں لکھا ہے: ‘ہم لوگ ایرانی حکومت پر ایسا مالی دباؤ ڈالنے کی کوشش کریں گے جو پہلے کبھی نہ ڈالا گیا ہو۔اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ‘انتہائی مخصوص صورت حال کے سوا وہ کسی استثنی دینے کی حالت میں نہیں ہے۔ایران کے جوہری پروگرام کے تعلق سے 2015 کے بین الاقوامی معاہدے سے خود کو علیحدہ کرنے کے بعد صدر ٹرمپ نے مئی میں ایران کے خلاف سخت پابندیاں عائد کی ہیں۔ایران کے جوہری معاہدے سے امریکہ کے نکلنے کا مطلب ہے کہ جو پابندیاں معاہدے سے قبل ایران پر لگی ہوئی تھیں وہ پھر سے عائد ہو جائیں گی۔امریکہ کی معاہدے کی مخالفت اسے فرانس، جرمنی اور برطانیہ کے خلاف کھڑا کر دیتا ہے کیونکہ ان ممالک نے اپنے عہد کی پاسداری کا عہد کیا ہے۔ 2017 میں یورپی یونین نے ایران کو مجموعی طور پر 10.8 ارب یورو کی برآمدات کی تھی جس میں سامان اور خدمات دونوں شامل تھیں جبکہ اسی دوان اس نے 10.1 ارب یورو کی درآمدات کی تھی۔ درآمدات کے معاملے میں یہ 2016 کے مقابلے میں دگنی تھی۔اب یورپی بزنس کو اس بات کا خوف ستا رہا ہے کہ اگر وہ ایران کے ساتھ تجارت کرتے ہیں تو امریکہ کے ساتھ ان کی تجارت کو دھکا لگے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *