ایمباپے اور موڈرچ نمایاں کارکردگی میں سب سے آگے

ورلڈکپ فٹبال ٹورنامنٹ دنیا کو کئی نئے اسٹارز دیئے ہیں لیکن کرسٹیانو رونالڈو اور لیونل میسی کو فلاپ قرار دیکر ختم ہوگیا۔ روس میں میگا ایونٹ کے دوران فرانس کے نوجوان کائلیان ایمباپے اور کروشیا کے لوکا موڈرچ نے شہرت کی بلندیوں کو چھولیا ہے۔ دونوں کھلاڑیوں کی کارکردگی نے ان کی ٹیموں کو فائنل تک رسائی دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پیرس سینٹ جرمین نے 19 سالہ ایمباپے کی خدمات 210 ملین ڈالر کے عوض موناکو سے حاصل کی تھیں، انہوں نے لاسٹ 16 میچ میں ارجنٹینا کے خلاف 2 گول اسکور کرکے نیا ریکارڈ قائم کیا ۔ وہ 1958 میں پیلے کے بعد ایک ہی ورلڈکپ میچ میں ایک سے زائد گول اسکور کرنے والے پہلے کھلاڑی بنے۔ رئیل میڈرڈ کی نمائندگی کرنے والے کروشیا کے موڈرچ نے 3 مرتبہ مین آف دی میچ ایوارڈ جیت کر خود کو دنیا کا بہترین مڈفیلڈر ثابت کیاہے۔ بلجیم کے ایڈن ہیزارڈ کو بھلا کون بھول سکتاہے۔ انہوں نے جاپان کے خلاف پری کوارٹر فائنل میں 2 گول کے خسارے کی شکار ٹیم کو نہ صرف اٹھایا بلکہ گول کرکے میچ میں واپس لائے ۔ اسی طرح برازیل کو ڈھیر کرنے میں بھی نمایاں دکھائی دیے۔ دوسری جانب ورلڈکپ کے ناکام کھلاڑیوں کی بات کی جائے تو 33 سالہ لیونل میسی کا نام سب سے پہلے آتاہے۔ ان کا ورلڈکپ کیریر ایک بار بھی عالمی چمپئن بنے بغیر ختم ہوگیا۔ 31 سالہ کرسٹیانو رونالڈ سے متعلق بھی یہی کہاجا رہا ہے ۔ یوروپین فٹبال لیگز کے ان میگا اسٹارز کی ٹیمیں ارجنٹائن اور پرتگال کی مہم پری کوارٹر فائنل تک ہی محدود رہی۔ ٹیموں میں سابق عالمی اور دفاعی چمپئن جرمنی کی پہلے رائونڈ میں عبرتناک شکست کے بعد گھر واپسی ناقابل فراموش رہے گی جبکہ افریقی براعظم سے تعلق رکھنے والی ٹیمیں میگا ایونٹ میں کوئی تاثر چھوڑنے میں ناکام رہیں ۔

جواب چھوڑیں