لوک سبھا انتخابات کیلئے بہار میں نشستوں کی تقسیم کا مسئلہ :نتیش کمار

چیف منسٹر بہار اور جنتا دل یو صدر نتیش کمار نے آج اعلان کیا کہ ریاست میں لوک سبھا انتخابات کے لیے این ڈی اے میں شریک جماعتوں کے درمیان نشستوں کی تقسیم پر قطعی فیصلہ اندرون ایک ماہ لیے جانے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس مسئلہ پر بی جے پی کی تجویز کے منتظر ہیں۔ نتیش کمار نے یہاں ان کی قیامگاہ پر لوک سمواد پروگرام کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ 12 جولائی کو بی جے پی صدر امیت شاہ کے دورۂ بہار کے موقع پر انہوں نے ان سے ملاقات کی اور یہ ایک فطری بات تھی کہ وہ لوگ آپس میں بات چیت کریں ، کیوںکہ دونوں جماعتیں گذشتہ ایک سال سے ریاست میں مخلوط حکومت چلارہی ہیں۔ امیت شاہ ، ان کی پارٹی کے ایک پروگرام میں شرکت کے لیے یہاں آئے تھے اور ان دونوں کی ملاقات معمول کی تھی۔ چیف منسٹر سے پوچھا گیا تھا کہ آیا امیت شاہ سے ملاقات کے دوران ان دونوں نے نشستوں کی تقسیم پر کوئی گفتگو کی ؟ انہوں نے کہا کہ یہ انکشاف کرنا مناسب نہیں ہوگا کہ ان دونوں کے درمیان کیا بات چیت ہوئی تھی۔ عوام سے متعلق مسائل کے بارے میں امیت شاہ نے 12 جولائی کو اپنے دورہ کے موقع پر ہی عوام کو تفصیلات سے واقف کرادیا تھا۔ علیحدہ اطلاع کے مطابق نتیش کمار نے آج زور دے کر کہا کہ وہ بہار کے لیے خصوصی موقف کا مسئلہ پوری طاقت اور خلوص کے ساتھ اٹھاتے رہیںگے ، کیوںکہ یہ ریاست کے عوام کے مفاد میں ایک حقیقی مسئلہ ہے اور انہیں اس مسئلہ پر تمام جماعتوں کی تائید حاصل ہے ۔ نتیش کمار نے یہاں میڈیا کو بتایا کہ وہ کافی عرصہ سے بہار کے لیے خصوصی موقف کا مسئلہ اٹھاتے رہے ہیں اور اس مسئلہ پر ریاستی اسمبلی کے دونوں ایوانوں میں ایک متفقہ قرارداد منظور کی گئی ہے۔ سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کل جماعتی وفد کو ملاقات کا وقت نہیں دیا تھا تاکہ وہ اس کے سامنے خصوصی موقف کا مسئلہ پیش کرسکیں، لہٰذا یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ زائد از ایک کروڑ افراد کی دستخط کے ساتھ وزیر اعظم کو ایک یادداشت روانہ کی جائے اور ان سے درخواست کی جائے کہ وہ مزید کسی تاخیر کے بغیر بہار کے لیے اس خصوصی موقف کے مطالبہ کو قبول کریں۔ چودھویں فینانس کمیشن کی رپورٹ کے بعد یہ تاثر پیدا کیا گیا تھا کہ کسی بھی ریاست کو خصوصی موقف کا درجہ دینے کی گنجائش بے معنی ہوگئی ہے اور اب ایسے مطالبہ کی کوئی اساس نہیں ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ چند ہفتے قبل کل جماعتی اجلاس بھی طلب کیا گیا تھا ، جس کے دوران تمام جماعتوں نے بہار کے لیے خصوصی موقف کے مطالبہ کی متفقہ حمایت کی تھی اور تمام جماعتوں نے خصوصی موقف کے مطالبہ کے مسئلہ پر پندرہویں فینانس کمیشن کو ایک مشترکہ میمورنڈم پیش کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ اب اس مسئلہ سے کسی بھی جماعت کے پیچھے ہٹنے کا سوال نہیں۔

جواب چھوڑیں