میٹنگ کے نتائج امید افزانہیں:جان بولٹن

 امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے کہا آج امریکہ اور روس کے ساتھ ہونے والی سربراہی اجلاس سے انہیں کوئی خاص امید نہیں ہے۔صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور روس کے صدر ولادیمیر پوٹن پیر کو ہیلسنکی میں ان کی ملاقات ہو ہورہی ہے۔ جنوری 2017 میں مسٹر ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ان کی یہ پہلی ملاقات ہوگی۔امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس سے بات چیت میں مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ روسی صدر سے ملاقات سے کچھ برا نہیں ہو گا اور ہو سکتا ہے کہ شاید کچھ اچھے نتائج نکلے،لیکن اس ملاقات سے مجھے بڑی امیدیں نہیں ہیں۔روس میں امریکی سفیر جان ?نٹسمین نے’فاکس نیوز سنڈے‘کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ یہ ضروری ہے کہ دونوں طرف کے لوگ مذاکرات سے زیادہ امید نہ ہی کریں۔مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ وہ سال 2016 کے امریکی انتخابات کے دوران مبینہ طور پر ہیکنگ میں شامل 12 روسیوں کی بات اٹھائیں گے۔ لیکن پوٹن بار بار اس بات سے انکار کرتے رہے ہیں۔ اگرچہ مسٹر ٹرمپ نے ان کی حوالگی کے بارے میں ابھی کچھ نہیں سوچا ہے۔سی بی ایس انٹرویو میں مسٹر ٹرمپ نے اوبامہ انتظامیہ اور ڈیموکریٹک پارٹی پر ہیکنگ کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے، روس کو نہیں۔بولٹن نے اتوار کو کہا کہ انہیں یہ یقین نہیں ہو رہا ہے کہ مسٹر پوٹن کو روسی انٹیلی جنس حکام کی مبینہ کردار کی کوششوں کے بارے میں پتہ نہیں ہے. جبکہ روسی انٹیلی جنس حکام کی اس میں مبینہ رول رہا ہے۔

جواب چھوڑیں