وسیم رضوی کو اب سبزپرچم‘ کھٹکنے لگے۔صدرنشین شیعہ وقف بورڈ ‘سپریم کورٹ سے رجوع

 سپریم کورٹ نے پیر کے دن ایک درخواست پر مرکز کا موقف جانناچاہا جس میں چاندتارہ والے سبز پرچموں پرامتناع کا مطالبہ کیاگیا۔ درخواست میں ان پرچموں کو غیراسلامی قراردیتے ہوئے کہاگیا کہ یہ ایک پاکستانی سیاسی جماعت کے پرچم جیسے دکھائی دیتے ہیں۔ جسٹس اے کے سیکری اور جسٹس اشوک بھوشن پر مشتمل بنچ نے ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل تشارمہتہ سے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں حکومت کا موقف دریافت کریں۔ عدالت نے 2ہفتے بعد سماعت مقرر کی۔ بنچ نے کہا کہ حکومت سے پوچھئے۔ بعض اوقات حکومت کے لئے مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کی نیت پر سوال کئے جاتے ہیں۔ اب معاملہ عدالت میں ہے۔ حکومت کا موقف دریافت کیاجاسکتا ہے۔ عدالت نے درخواست گذار سے کہا کہ وہ درخواست کی ایک کاپی، مہتہ کو دے۔ عدالت صدرنشین اتراپردیش شیعہ سنٹرل وقف بورڈ سید وسیم رضوی کی درخواست کی سماعت کررہی تھی جس میں انہوں نے الزام عائد کیاہے کہ لہرائے جانے والے پرچم پاکستانی مسلم لیگ کے پرچم جیسے لگتے ہیں جو دشمن ملک کی جماعت ہے۔ سینئر وکیل ایس پی سنگھ نے رضوی کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ درخواست گذار نے ممبئی، حیدرآباد، کرناٹک اور ملک کے دیگر علاقوں کے سفر میں دیکھا ہے کہ کئی عمارتوں اور مذہبی مقامات پر سبزپرچم لہرارہے ہیں جورضوی کی دانست میں ہندو۔مسلم کشیدگی پیدا کرتے ہیں۔ ایسے پرچم مسلم اکثریتی علاقوں میں بڑے اہتمام سے لہرائے جاتے ہیں۔ چاند تارہ والے سبز پرچم کسی اسلامی رواج کا حصہ نہیں۔ اسلام میں نہ تو ان کا کوئی رول ہے اور نہ اہمیت۔ درخواست گذار کا کہنا ہے کہ سبز رنگ کے چاند تارہ والے پرچم کی جڑیں 1906ء میں نواب وقارالملک اور محمد علی جناح کی قائم کردہ مسلم لیگ میں ہیں لیکن اب اسے ہندوستانی مسلمان استعمال کرنے لگے ہیں جو اسے اسلامی پرچم مانتے ہیں۔

جواب چھوڑیں