کانگریس آج بے نقاب ہوئی ہے : پرکاش جاؤدیکر

بی جے پی نے آج ’’مسلم پارٹی‘‘ تنازعہ پر کانگریس کو پھر نشانۂ تنقید بنایا اور کہا کہ ایک کانگریس قائد کے مبینہ بیان سے اس بات کی توثیق ہوئی ہے کہ راہول گاندھی نے ایسا کہا تھا ۔ اب یہ قدیم ترین سیاسی جماعت بے نقاب ہوگئی ہے۔ بی جے پی قائد و مرکزی وزیر پرکاش جاؤدیکر نے یہاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ کانگریس آج بے نقاب ہوئی ہے۔ راہول گاندھی سے منسوب ریمارکس ایسے نہیں ہیں جنہیں نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔ ماضی میں بھی کانگریس ایسی فرقہ وارانہ سیاست میں ملوث ہوئی ہے ۔ جاؤدیکر نے کہا کہ دہلی میں 1984ء کے مخالف سکھ فسادات جنہیں اکثر کانگریس قائدین منصفانہ قرار دیتے رہے ہیں ، اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ کانگریس ہمیشہ فرقہ پرستی کی سیاست پر عمل پیرا رہی ہے اور اسی پر پروان چڑھی ہے ۔ ملک میں ایک ہی قتل عام ہوا تھا جب 1984ء میں دارالحکومت میں تین ہزار سکھوں کو ہلاک کردیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح 1980ء کے بھاگلپور فسادات کی کسی مناسب تحقیقات کا حکم نہیں دیا گیا ، جہاں کئی مسلمانوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔ انتہائی متنازعہ شاہ بانو کیس کا حوالہ دیتے ہوئے جو راجیو گاندھی کے دورِ وزارتِ عظمیٰ میں سامنے آیا تھا ، مرکزی وزیر نے کہا کہ اس معاملہ میں بھی ملک کے دستور کو محض سیاسی مفاد کے لیے تبدیل کیا گیا تھا۔ جاؤدیکر نے دیگر مثالیں بھی دیں ، جن کے ذریعہ یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کانگریس قائدین نے ماضی میں بھی فرقہ وارانہ اور غلط مسائل اچھالتے ہوئے مسلم آبادی تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ کانگریس کی ذہنیت سامنے نہیں آئی ہے ۔ ملک اور بی جے پی اب یہ چاہتے ہیں کہ راہول گاندھی اس بات کا جواب دیں کہ ایک اردو روزنامہ کی اس رپورٹ جس میں کہا گیا تھا کہ کانگریس مسلمانوں کی جماعت ہے ، وہ اس مسئلہ پر خاموش کیوں رہے ۔ جاؤدیکر نے کہا منموہن سنگھ حکومت میں مرکزی وزیر داخلہ کی حیثیت سے سشیل کمار شنڈے نے بھی ریاستوں کو ہدایت دی تھی کہ دہشت گردی کے الزام میں محروس مسلم نوجوانوں کو رہا کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ہی کہا تھا کہ ملک کے وسائل پر مسلمانوںکا پہلا حق ہے ۔

جواب چھوڑیں