کشیدگی کے پس منظر میں ٹرمپ ۔ پوٹین کی دوبدو ملاقات

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور روس کے صدر ولادی میر پوٹین کے درمیان پہلی باضابطہ ملاقات پیر کو فن لینڈ کے دارالحکومت ہیلسنکی میں ہو رہی ہے۔دونوں صدور کے درمیان اس سے قبل بھی مختلف مواقع اور اجلاسوں کے وران ملاقاتیں ہوچکی ہیں لیکن یہ دونوں رہنماوؤں کی پہلی باضابطہ سربراہی ملاقات ہے۔سربراہی ملاقات کے لیے صدر ٹرمپ اتوار کو برطانیہ سے ہیلسنکی پہنچے تھے جہاں انہوں نے پیر کی صبح ناشتے پر فن لینڈ کے صدر ساوؤلی نینستو سے ملاقات کی۔برطانیہ سے ہیلسنکی روانہ ہوتے وقت صدر ٹرمپ نے کئی ٹوئٹس بھی کیے جن میں ان کا کہنا تھا کہ سربراہی ملاقات میں ان کی کارکردگی کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو، آخرِ کار انہیں تنقید کا نشانہ ہی بنایا جائے گا۔دونوں صدور کی ملاقات کی تیاریاں گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری تھیں تاہم دونوں حکومتوں نے تاحال ملاقات کے ایجنڈہ کے متعلق کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔اتوار کو برطانیہ میں امریکی ٹی وی ‘سی بی ایس کے ساتھ ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے بھی ملاقات کے مقاصد سے متعلق پوچھے جانے والے سوال کا جواب دینے سے انکار کیا اور کہا کہ وہ اس بارے میں ملاقات کے بعد بات کریں گے۔جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ اپنی اس ملاقات میں صدر ٹرمپ سے ان 12 روسی انٹیلی جنس افسران کو امریکہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کریں گے جن پر 2016ء کے امریکی صدارتی انتخابات میں مداخلت کے الزام میں گزشتہ ہفتے ہی ایک امریکی عدالت میں فردِ جرم عائد کی گئی ہے، صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس بارے میں سوچا تو نہیں تھا لیکن وہ اس پر بات کرسکتے ہیں۔امریکہ اور روس کے درمیان ملزمان کی حوالگی کا کوئی باضابطہ معاہدہ موجود نہیں ہے اور اسی وجہ سے اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ روسی حکومت اپنے ان اہلکاروں کو قانونی کارروائی کے لیے امریکہ کے حوالے کرے گی۔صدر پوٹین کی حکومت ویسے بھی امریکی صدارتی انتخابات میں مداخلت کے الزامات کی تردید کرتی آئی ہے جب کہ صدر ٹرمپ کا اپنا بھی موقف ہے کہ ان کی انتخابی فتح میں روس یا اس کے اداروں کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں صدور کے درمیان پیر کو ہونے والی ملاقات کے آغاز پر دونوںقائدین آدھے سے ایک گھنٹے تک علحدگی میں ملیں گے جس میں صرف دونوں کے ترجمان شریک ہوں گے۔بعد ازاں اس ملاقات میں دونوں ممالک کے اعلیٰ وفود بھی شامل ہوجائیں گے۔امکان ہے کہ امریکہ اور روس کی اس سربراہی ملاقات میں شام کی صورتِ حال، ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کی مداخلت سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر امور زیرِ غور آئیں گے۔روسی صدر کے ساتھ اس ملاقات سے قبل صدر ٹرمپ نے برسلز میں ‘نیٹو’ کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی تھی جس کے بعد انہوں نے برطانیہ کا سرکاری دورہ کیا تھا۔ان دونوں دوروں کے دوران صدر ٹرمپ نے امریکہ کے دیرینہ یورپی اتحادیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ہیلسنکی آمد سے عین قبل ‘سی بی ایس’ کے ساتھ اپنے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے یورپی یونین کو امریکہ کا بڑا دشمن بھی قرار دے دیا تھا۔ اس بیان اور اس کی ٹائمنگ پر امریکہ اور یورپ میں خاصی لے دے ہورہی ہے۔صدر پوٹین بھی یورپی یونین’ اور ‘نیٹو’ کو خطے میں روس کے مفادات اور سلامتی کے لیے ایک خطرہ قرار دیتے آئے ہیں اور ماضی میں سوویت یونین کا حصہ رہنے والی یورپی ریاستوں کے ان دونوں اتحادوں میں شمولیت کے سخت خلاف ہیں۔

جواب چھوڑیں